آئندہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو سب سے بڑا نقصان ہوگا، عبدالباری عطوان
عبدالباری عطوان
شیعیت نیوز : معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ آئندہ جنگ میں امریکی صیہونی اتحاد سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا فریق ہوگا، خواہ جارحیت کا آغاز وہ کرے یا ایران پہل کرتے ہوئے کارروائی شروع کرے۔
یہ بھی پڑھیں : دشمن کے مہنگے ہتھیار سستے ڈرونز سے بے اثر کر دیں گے، میجر جنرل عبداللہی
اپنے ایک تجزیے میں عطوان نے آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیوں کا ذکر کیا، جن میں ایران کے سکیورٹی انتظامات کو نظرانداز کرنے والے 12 بڑے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر مدر آف آل بمز گرانے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنا اس کے نتائج کے خوف کا مظہر ہے، اور ایرانی قوم و حکومت اب امریکی اور صیہونی حملوں سے خوف زدہ نہیں بلکہ کسی بھی نئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی بلند سطح کی تیاری رکھتی ہیں۔
عطوان کے مطابق آٹھ ماہ تک ایران کے محاصرے اور اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باوجود نظام کی تبدیلی کا مقصد پورا نہ ہو سکا اور دشمن ایرانی عوام کو سڑکوں پر لانے میں بھی ناکام رہا، بلکہ اس کے برعکس رہبر اور حکومت کے ساتھ قومی یکجہتی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اتحادی ٹریگر پر انگلیاں رکھے ہوئے ہیں اور اس جنگ میں روز بروز مزید طاقتور ہوں گے۔
عرب تجزیہ کار نے کہا کہ آئندہ جنگ میں ایران کی حکمت عملی امریکی فوجیوں کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں انہیں قیدی بنانے پر مبنی ہوگی، جس میں ایران کی تیز رفتار کشتیاں اور ہزاروں بحری میزائل اہم کردار ادا کریں گے۔ عطوان کے مطابق 2025 کی 12 روزہ جنگ میں ایران کے کلسٹر وارہیڈ والے میزائلوں نے تل ابیب کے بیشتر محلوں کو تباہ کر دیا تھا اور 70 لاکھ صیہونی آبادکاروں کو دن رات پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔







