ایران کسی صورت سرنڈر نہیں کرے گا، ایرانی وزیر خارجہ
سید عباس عراقچی
شیعیت نیوز : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اقتصادی پابندیوں یا فوجی دھمکیوں کے سامنے کسی صورت سرنڈر نہیں کرے گا، اور امریکہ کے ساتھ ایران کے تنازع کی اصل وجہ جوہری مسئلہ نہیں بلکہ امریکی تسلط کو مسترد کرنے والے اسلامی نظام اور ایرانی سوچ سے واشنگٹن کی دشمنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مارو اور بھاگو کا دور ختم، ہر حملے کا جواب دیں گے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ایک عراقی ٹی وی چینل کو تفصیلی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جوہری مسئلہ محض ایک بہانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تین ادوار میں شریک ہوا اور تینوں کا انجام ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں نکلا، اس لیے امریکی طرز عمل پر کوئی اعتماد نہیں۔
عراقچی نے بتایا کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک کے ذریعے بات چیت جاری ہے اور ایران نے سفارت کاری کو مکمل طور پر ختم ہونے سے بچانے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے، تاہم کسی بھی پیش رفت کے لیے امریکہ کو پہلے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں کیے گئے تمام وعدے پورے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مفاہمت سے پہلے آبنائے ہرمز بند رہے گی اور دنیا کو جان لینا چاہیے کہ راستہ ایران نہیں بلکہ امریکہ روک رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آٹھ ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود امریکہ جنگ میں اپنا کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا، جو واشنگٹن کی تزویراتی ناکامی اور ایران کی تزویراتی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایک گہری دلدل میں پھنس چکا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے فوجی دھمکیوں، نئی پابندیوں اور ایران کے ہمسایہ ممالک پر دباؤ کا سہارا لے رہا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایرانی قوم نے اپنی عزت، آزادی، وقار اور عظمت کے تحفظ کے لیے یہ قیمت قبول کی ہے، اور ایران سفارت کاری کے لیے جتنا تیار ہے، جنگ کے لیے بھی اتنا ہی تیار ہے۔







