سعودی فوجیوں کو لڑائی سے دور رکھنے کی حکمت عملی ناکام، کرنل زکریا الشرعبی

21 اکتوبر, 2026 09:27

شیعیت نیوز : یمنی مسلح افواج کے محکمہ اخلاقی رہنمائی کے مرکز اطلاعات کے ڈائریکٹر کرنل زکریا الشرعبی نے کہا ہے کہ سعودی سرحدی ٹھکانوں اور مملکت کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنانے والی یمنی کارروائیوں نے آل سعود کی اس حکمت عملی کو ناکام بنا دیا ہے جس کے تحت وہ اپنے فوجیوں کو براہ راست لڑائی سے دور رکھتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : جیزان اور عسیر میں سعودی فوجیوں پر رجوم ڈرونز کے حملے، یمنی عسکری میڈیا

انہوں نے کہا کہ جیزان اور عسیر کے محاذوں سے جاری ہونے والی ویڈیوز متعدد نئے محاذ کھلنے کے امکان کی نشاندہی کرتی ہیں، جو جارحیت کو صرف یمن تک محدود رکھنے کی سعودی صلاحیت کے لیے کھلا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق سعودی سرحدی چوکیاں یمنی دیہات پر حملوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں، اس لیے انہیں نشانہ بنانا جارحیت کا مقابلہ کرنے اور سرحدی آبادیوں کے تحفظ کا حصہ ہے۔

کرنل الشرعبی نے کہا کہ سعودی عرب 2015 سے اپنے فوجیوں کو براہ راست لڑائی سے بچانے کے لیے سوڈانی اور یمنی کرائے کے جنگجوؤں پر انحصار کرتا رہا، تاہم نگرانی اور ہدف کو نشانہ بنانے کی بہتر یمنی صلاحیتوں نے اب سعودی فوجیوں اور فوجی ٹھکانوں کو براہ راست زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 83 ارب ڈالر کے دفاعی اخراجات کے باوجود رجوم ڈرونز سمیت کم لاگت ہتھیاروں کے ذریعے سعودی عرب کو براہ راست جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محاصرے اور معاشی مشکلات کے ذریعے یمن پر دباؤ ڈالنے کی سعودی کوششیں یمنی عوام کی استقامت اور عسکری تیاری کو شکست نہیں دے سکیں، جبکہ نئی کشیدگی نے 2022 کے بعد سے سعودی عرب کو سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق صحرا کے ڈیووس کے نام سے مشہور سعودی سرمایہ کاری کانفرنس کا التوا اسی صورتحال کا نتیجہ ہے اور سکیورٹی خدشات ویژن 2030 کے منصوبوں پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

10:23 صبح اکتوبر 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔