ریاض سے فرار مہنگا، نجی طیاروں کے کرائے 50 فیصد بڑھ گئے، برطانوی اخبار
شیعیت نیوز : ایک برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کے اندر یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں کے بعد ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش اور ہزاروں تجارتی پروازوں کی منسوخی کے باعث سعودی عرب آنے جانے والی نجی پروازوں کے کرائے میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ینبع میں آرامکو، شیبہ آئل فیلڈ اور ریاض ایئرپورٹ پر حملے، یمنی مسلح افواج
بدھ 21 اکتوبر کو شائع رپورٹ کے مطابق دستیاب طیاروں کی تعداد میں شدید کمی، انشورنس پریمیم میں بے تحاشا اضافے اور مسافروں پر اضافی چارجز کے باعث نجی ہوابازی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ متعدد آپریٹرز متاثرہ ہوائی اڈوں پر پروازیں چلانے سے گریزاں ہیں۔ ہوابازی صنعت کے حکام کے مطابق قصیم ایئرپورٹ سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا کے لیے تقریباً 14 نشستوں والے ایک نجی طیارے کی پرواز 94 ہزار یورو میں فروخت ہوئی، جبکہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش سے پہلے یہی پرواز تقریباً 60 ہزار یورو میں دستیاب تھی۔
ایک نجی ہوابازی پلیٹ فارم کے بانی کے مطابق سعودی عرب سے یورپی یونین کے ممالک کے لیے نجی پرواز کا کرایہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک جا پہنچا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے لیے یہ کرایہ 30 سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض چھوڑنے کے خواہشمند افراد اب دارالحکومت سے 200 میل سے زیادہ دور قصیم ایئرپورٹ کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ مہنگے کرائے ادا نہ کر سکنے والے مسافر بحرین اور قطر کے ہوائی اڈوں سے پروازیں لینے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یمنی فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک سعودی ہوائی اڈوں سے روانہ ہونے والی 5500 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جرمن اور اطالوی فضائی کمپنیوں نے سعودی عرب کے لیے اپنی سروس معطل کر دی ہے جبکہ برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں نے پروازیں مؤخر کر دی ہیں۔ صنعتی ذرائع کے مطابق یمنی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث پروازوں کی اجازت ملنے کے بعد بھی ریاض ایئرپورٹ پر معمول کی بحالی بتدریج ہی ممکن ہوگی۔
اخبار کے مطابق مغربی کمپنیوں نے اپنی اعلیٰ انتظامیہ کو ریاض سے دبئی منتقل کرنے یا اپنے ملکوں کو واپس بھیجنے کے لیے ہوابازی بروکرز سے رابطے کیے ہیں۔ یہ صورتحال سعودی عرب میں غیر ملکی کمپنیوں کی بڑھتی تشویش کی عکاسی کرتی ہے اور محفوظ سرمایہ کاری کے آل سعود کے دعووں کی قلعی کھول رہی ہے۔







