سعودی اماراتی جنگی جرائم کبھی زائد المیعاد نہیں ہوں گے، یمنی نائب وزیر انصاف
شیعیت نیوز : یمن کے نائب وزیر انصاف و انسانی حقوق قاضی ابراہیم الشامی نے کہا ہے کہ یمن کے جنوبی صوبوں میں سعودی اماراتی قبضے کے دوران یمنی عوام کے خلاف کیے گئے جرائم جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں، جو کبھی زائد المیعاد نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں : 3 ستمبر سے سعودی جارحیت میں 141 یمنی شہید، اکثریت خواتین و بچے، یمنی وزارت صحت
قاضی ابراہیم الشامی نے انسانی حقوق کے ادارے ندائے کرامہ مرکز برائے حقوق و ترقی کی رپورٹ "جھوٹا تحفظ، قبضے کی ایک دہائی” کو یمنی عوام کے خلاف جرائم کے ذمہ داروں کے تعاقب کے لیے سرکاری قانونی اور فوجداری ثبوت کے طور پر منظور کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ رپورٹ ریاست کے مرکزی آرکائیو کا حصہ بنے گی تاکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے سرغنوں، سعودی قابض افسران، بین الاقوامی سیکیورٹی کمپنیوں اور کرائے کے فوجیوں کے خلاف قومی و بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائی کی جا سکے۔
انہوں نے منگل کے روز کہا کہ وزارت رپورٹ کے میدانی شواہد پر عالمی سطح پر تسلیم شدہ فوجداری ضوابط کے مطابق کارروائی کرے گی، جس سے فوجداری مقدمات کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے دنیا بھر کے آزاد عدالتی اور انسانی حقوق کے اداروں سے خاموشی توڑنے، مقدمات عالمی فوجداری عدالت بھیجنے، یمنی سرزمین سے اتحادی افواج کے غیر مشروط انخلا، غیر قانونی جیلیں بند کرنے اور قیدیوں و جبری لاپتا افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
قاضی الشامی نے کہا کہ انسانی اور مالی نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرنا اور جنگ سے تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو اتحاد کی قانونی ذمہ داری ہے۔ ندائے کرامہ مرکز کے سربراہ زید الغرسی کے مطابق یہ رپورٹ دسمبر 2015 سے دسمبر 2025 تک مقبوضہ جنوبی صوبوں میں سعودی امریکی اماراتی اتحاد کی فوجی کارروائیوں اور پالیسیوں کے انسانی نتائج کا جامع دستاویزی ثبوت ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے عالمی معیارات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔







