تعز میں اسٹریٹجک جبل حان پر یمنی فورسز کا کنٹرول، سعودی کرائے کے فوجی پسپا
شیعیت نیوز : یمنی عسکری میڈیا نے منگل کے روز ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں یمنی مسلح افواج کی اس کارروائی کو دکھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں تعز شہر کے مغرب میں واقع اسٹریٹجک جبل حان پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا اور اطراف کی تمام چوٹیاں سعودی حمایت یافتہ فورسز سے مکمل طور پر خالی کرا لی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : العلم کیمپ پر یمنی حملہ، سعودی افسران سمیت درجنوں ہلاک و زخمی، یحییٰ سریع
ویڈیو کے مطابق کارروائی کا آغاز شدید توپ خانے اور ٹی 62 ٹینکوں کی گولہ باری سے ہوا، جس نے مخالف فورسز کی نقل و حرکت اور جوابی فائرنگ کی صلاحیت مفلوج کر دی۔ اس کے بعد سعودی حمایت یافتہ فورسز اپنے ہلاک و زخمی اہلکار، اسلحہ اور فوجی ساز و سامان چھوڑ کر پسپا ہو گئیں۔
جبل حان برسوں سے تعز کے مغربی محاذ پر سعودی حمایت یافتہ فورسز کا اہم دفاعی مورچہ تھا، جو شہر کے مغربی داخلی راستوں، بیر باشا اور پرانے ہوائی اڈے کے اطراف کی جانب یمنی فورسز کی پیش قدمی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ یہ پہاڑ مرکزی جیل کے علاقے، السیاحی ضلع، مغربی رسد کے راستوں اور تعز کو التربہ کے راستے عدن سے ملانے والی الضباب شاہراہ پر نظر رکھتا ہے۔
عسکری ماہر بریگیڈیئر جنرل عمر معربونی کے مطابق اس پہاڑ پر کنٹرول سے تعز شہر کی جانب پیش قدمی کو تقویت ملے گی، جبکہ جاری کشیدگی ریاض کے لیے بڑھتی ہوئی عسکری، معاشی اور سیاسی قیمت کا باعث بن رہی ہے۔ عسکری ماہر خالد غراب نے کہا کہ دشوار گزار راستوں اور مضبوط دفاعی مورچوں کے باعث جبل حان پر قبضہ ایک مشکل عسکری ہدف تھا۔
دوسری جانب تعز کے گورنر احمد المساوی نے کہا ہے کہ یمنی مسلح افواج نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے اجتماعات کو پیچھے دھکیل کر قبائلی عمائدین کی اپیل پر بیشتر راستے کھول دیے ہیں، اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے بند کیے گئے 19 راستوں میں سے اب صرف ایک راستہ مکمل طور پر بند ہے۔







