تعز کے ساحل پر سعودی فضائی حملے، 8 یمنی ماہی گیر شہید
شیعیت نیوز : یمن کے صوبہ تعز کے ضلع ذباب میں الکدحہ کے ساحل کے قریب مچھلی کے شکار کی جگہ پر سعودی جنگی طیاروں کے دو فضائی حملوں میں 8 یمنی ماہی گیر شہید ہو گئے۔ یہ نہتے شہریوں کے خلاف آل سعود کی جارحیت کا ایک اور سنگین جرم ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 72 گھنٹوں میں سعودی جارحیت سے 11 بچوں سمیت 37 یمنی شہید، یمنی انسانی حقوق مرکز
مقامی ذرائع کے مطابق پہلے حملے میں ساحل کے قریب لنگر انداز ایک کشتی پر سوار ماہی گیروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرا حملہ اس وقت کیا گیا جب بچ جانے والے ماہی گیر دوسری کشتی کے ذریعے جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں وہ سب شہید ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہداء کی یہ تعداد ابتدائی ہے اور علاقے میں مزید حملوں کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب یمن کے انسانی حقوق کے ادارے عین الانسانیہ مرکز برائے حقوق و ترقی نے ماہی گیروں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں کو حاصل تحفظ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مرکز کے مطابق 2015 سے اب تک 70 واقعات میں 1090 یمنی ماہی گیر شہید یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 556 شہید اور 534 زخمی شامل ہیں۔
مرکز نے بتایا کہ اس عرصے میں 2 ہزار سے زائد یمنی ماہی گیروں کو حراست میں لیا گیا اور ماہی گیری کی 4700 کشتیاں اور مچھلی اتارنے کے مراکز تباہ کیے گئے، جس سے ہزاروں خاندان اپنے بنیادی ذریعہ معاش سے محروم ہو گئے اور ساحلی آبادیوں میں غذائی عدم تحفظ بڑھ گیا۔ مرکز نے ان حملوں کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے متاثرین کے لیے انصاف اور معاوضے کا مطالبہ کیا۔
سمندر میں روزی کمانے والے نہتے ماہی گیروں پر پے در پے حملے اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ سعودی رجیم میدان جنگ میں اپنی ناکامیوں کا بدلہ یمن کے غریب شہریوں سے لے رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی اس جارحیت کو مزید شہ دے رہی ہے۔







