امریکی مصنوعی ذہانت مراکز اگلی جنگ میں نشانہ بنیں گے، ایرانی رکن پارلیمنٹ
شیعیت نیوز : ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن علاء الدین بروجردی نے کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مراکز ایران کی نگرانی میں ہیں اور کسی بھی ممکنہ آئندہ جنگ میں انہیں یقینی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : میزائلوں کا باپ تیار ہے، دشمن نے غلطی کی تو خطے میں اس کی توانائی تنصیبات نشانے پر ہوں گی، جنرل محمد رضا نقدی
ایران پر فوجی حملے سے متعلق ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی مفادات کا ایک اہم شعبہ نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری ہے، اور یہ تمام مفادات اور مراکز ایران کی نظر میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکیوں کو سمجھ آ جائے گی کہ ہارنے والا کون ہے اور جیتنے والا کون۔
ایران کی سات شرائط پر امریکی جواب سے متعلق سوال پر بروجردی نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق شرائط قبول کر لی گئی ہیں لیکن امریکہ نے اپنی شرائط بھی شامل کی ہیں، جن کا تعلق ان کے خیال میں جوہری معاملے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کے پاس ایران کی شرائط ماننے کے سوا کوئی راستہ نہیں کیونکہ خلیج فارس کے عرب ممالک میں ان کے مفادات ہیں، اور ایران یقینی طور پر امریکہ کو خطے میں اس کی سابقہ موجودگی کی اجازت نہیں دے گا۔
چین اور روس جیسے ممالک کی جوہری چھتری تلے آنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ مقام اور قومی و اسلامی وقار کے پیش نظر ان کے خیال میں نظام کی پالیسی یہ نہیں کہ وہ خود کو دوستوں کی سلامتی چھتری تلے بھی لے جائے۔
ایرانی قانون سازوں کے یہ دوٹوک بیانات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی جارحیت کی صورت میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔







