یمنی حملوں کے بعد سعودی سرمایہ کاری کانفرنس 2027 تک ملتوی
شیعیت نیوز : یمنی مسلح افواج کے سعودی ہوائی اڈوں اور دارالحکومت ریاض پر حملوں کے بعد آل سعود نے اپنی سب سے بڑی سالانہ سرمایہ کاری کانفرنس "فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو” ملتوی کر دی ہے، جسے "صحرا کا ڈیووس” بھی کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یمنی کارروائیوں سے آل سعود کا ویژن 2030 خطرے میں، برطانوی اخبار
یہ کانفرنس 26 سے 29 اکتوبر تک ریاض میں منعقد ہونا تھی۔ منتظمین نے پیر کے روز شرکاء کو آگاہ کیا کہ کانفرنس کا دسواں ایڈیشن اب 2027 میں ہوگا اور نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ منتظمین نے اپنے پیغام میں التوا کی وجہ یمنی حملوں کو قرار نہیں دیا، تاہم ایک معروف امریکی اخبار کے مطابق یہ فیصلہ سعودی ہوائی اڈوں اور دارالحکومت پر یمنی میزائل حملوں کے بعد کیا گیا، جو مملکت کے معاشی عزائم کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
معاشی امور کے محقق یعرب خیر بک نے کہا ہے کہ یمنی حملوں کے بعد کانفرنس کا التوا سرمایہ کاروں کو منفی پیغام دیتا ہے اور بڑے منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کرنے کی سعودی صلاحیت پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے فیصلے صرف منافع اور مواقع سے نہیں بلکہ سلامتی، کاروبار کے تسلسل اور طے شدہ وعدوں پر عملدرآمد کی صلاحیت سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس سے وابستہ سات منصوبوں کو آگے بڑھانے کی بات کی جا رہی تھی جو اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، جبکہ فضائی شعبے میں رکاوٹیں اور معاہدوں کی منسوخی کی اطلاعات سرمایہ کاروں کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ ان کے بقول یہ التوا اس تصویر کے لیے بڑا دھچکا ہے جو سعودی عرب خود کو سرمایہ کاری اور بڑے منصوبوں کے مرکز کے طور پر پیش کرنے کے لیے بنانا چاہتا تھا۔
واضح رہے کہ یمنی مسلح افواج نے سعودی عرب کی فضائی ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے پروازیں منسوخ اور فضائی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ یہ کانفرنس ویژن 2030 کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کھینچنے کا اہم پلیٹ فارم سمجھی جاتی تھی، اور اس کا التوا آل سعود کے معاشی منصوبوں کی کمزوری کو آشکار کرتا ہے۔







