امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے 800 کلومیٹر پیچھے ہٹ گئے، ترجمان سپاہ پاسداران
شیعیت نیوز : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایرانی جائزوں کے مطابق امریکہ یقینی طور پر اس پوزیشن میں نہیں کہ کوئی نیا تنازع شروع کر کے اس سے کوئی نیا فائدہ حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے اپنی پوری طاقت، اچھی طرح لیس فوجی اڈوں، بھاری عسکری سازوسامان اور تازہ دم فوجی دستوں کے ساتھ کارروائیاں کیں، اس کے باوجود وہ اپنے کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا اور اسے آبنائے ہرمز کی بندش جیسی نمایاں اسٹریٹجک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جسے وہ تمام تر کوششوں کے باوجود دوبارہ نہیں کھلوا سکا۔
یہ بھی پڑھیں : میزائلوں کا باپ تیار ہے، دشمن نے غلطی کی تو خطے میں اس کی توانائی تنصیبات نشانے پر ہوں گی، جنرل محمد رضا نقدی
جنرل محبی نے کہا کہ خطے میں امریکہ کے بیشتر فوجی اڈے غیر فعال ہو چکے ہیں اور ان کا سازوسامان بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔ امریکی افواج تھک ہار چکی ہیں اور سینکڑوں کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی ہیں؛ جنگ سے پہلے خلیج فارس میں کم از کم 30 سے 40 امریکی جنگی جہاز موجود تھے، مگر اب وہاں کوئی جہاز نہیں اور وہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 800 کلومیٹر دور جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردن کے الازرق اور شام کے التنف اڈوں میں منتقل کی گئی امریکی افواج بھی ایرانی کارروائیوں کی زد میں آئیں۔
ترجمان سپاہ پاسداران نے خبردار کیا کہ امریکی انتخابات کے قریب امریکہ کوئی محدود کارروائی کر کے انتخابی فائدے کے لیے جعلی کامیابی گھڑنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے ایران کسی بھی صورتحال کو خارج از امکان نہیں سمجھتا اور ہر اقدام کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار کسی بھی جارحیت پر ایران کا ردعمل کہیں زیادہ سخت ہوگا، نئے اہداف اور نئے ہتھیار سامنے آئیں گے اور خطے سے امریکہ کی باقیات کا صفایا کر دیا جائے گا، جبکہ کسی بھی امریکی اقدام کی صورت میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جنرل محبی نے کہا کہ ایران نے حالیہ معرکوں میں زیادہ تر دہائیوں پہلے تیار کیے گئے ہتھیار استعمال کیے ہیں، اور خاص و انتہائی نازک حالات کے لیے مختص ہتھیار کم حساسیت والی صورتحال میں استعمال نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ قطر، کویت، بحرین اور دیگر ممالک میں امریکی اڈوں اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر نے ان ممالک کو کیا فائدہ پہنچایا، جبکہ وہاں تعینات امریکی خود اپنا دفاع بھی نہ کر سکے۔
ترجمان سپاہ پاسداران کے یہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں، جبکہ خطے میں امریکی تسلط کا طلسم ٹوٹ چکا ہے اور میزبان ممالک پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی ہے کہ امریکی اڈے ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں بلکہ ان کے لیے خطرہ ہیں۔







