الازہر سے مکالمے کو تیار، امت کا اصل دشمن غاصب اسرائیل ہے، رابطہ علمائے یمن
شیعیت نیوز : رابطہ علمائے یمن نے مسلمانوں کے درمیان جنگوں اور اختلافات کے خاتمے سے متعلق شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے مصالحت کے فروغ اور امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے علمائے الازہر سے مکالمے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی جرائم نے ہر یمنی پر نفیر اور دشمن سے قصاص کی ذمہ داری عائد کر دی ہے، رابطہ علمائے یمن
پیر کی شام جاری بیان میں رابطہ علمائے یمن نے کہا کہ موجودہ نازک تاریخی مرحلہ اس اپیل کا مثبت جواب دینے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ غاصب صیہونی دشمن ہی امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بیان میں مسجد اقصیٰ میں صیہونی قابضین کی مسلسل خلاف ورزیوں اور فلسطینی، لبنانی اور شامی عوام کے خلاف جرائم و قتل عام کی نشاندہی کی گئی، اور کہا گیا کہ اتحاد امت کی یہ آواز طوفان الاقصیٰ کے دوران غزہ کے لیے اور یمن کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے مرحلے میں بلند ہونی چاہیے تھی۔
رابطہ علمائے یمن نے اعلان کیا کہ صنعاء شیخ الازہر کی تجویز کردہ دانشمند اور غیر جانبدار شخصیات پر مشتمل کمیٹی کی میزبانی کے لیے تیار ہے تاکہ وہ یمن کی صورتحال کا براہ راست مشاہدہ کر سکے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ یہ کمیٹی سعودی عرب کے ساتھ یمن کے تنازع سمیت تمام تنازعات میں تمام فریقوں سے یکساں فاصلہ رکھے، اور امت کی عسکری اور معاشی صلاحیتوں کو غزہ کی حمایت اور فلسطین کی آزادی کے لیے بروئے کار لایا جائے، جس میں یمنی عوام اور مسلح افواج صف اول میں ہوں گی۔
ادھر یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر یحییٰ علی الراعی نے مفتی اعظم یمن علامہ شمس الدین شرف الدین سے ملاقات میں شیخ الازہر اور لیبیا، عمان سمیت دیگر عرب و اسلامی ممالک کے دینی رہنماؤں کی جانب سے پرامن حل اور یمنی عوام کی حمایت کی اپیلوں کو سراہا، اور علماء پر زور دیا کہ وہ سعودی سرمائے سے چلنے والے پروپیگنڈے کو بے نقاب کریں اور یمن کے دفاعی مؤقف کو واضح کریں۔ مفتی اعظم یمن نے یمن کے مؤقف کو برحق قرار دیتے ہوئے جارحیت اور ناکہ بندی کی مذمت کی۔
شیخ الازہر نے 18 اور 19 اکتوبر کو عرب و اسلامی دنیا میں جنگوں کے فوری اور جامع خاتمے کی اپیل کرتے ہوئے تنازعات کے حل کے لیے معتبر شخصیات پر مشتمل فوری ثالثی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی تھی۔ یمنی علماء کا مثبت ردعمل اس امر کا ثبوت ہے کہ یمن امت کی وحدت کا داعی ہے اور اس کی بندوقوں کا رخ صیہونی دشمن اور اس کے سرپرستوں کی جانب ہے، نہ کہ مسلمانوں کی جانب۔







