یمن سعودی جنگ میں پاکستان فریق کے بجائے آرٹیکل 40 کے تحت ثالث بنے، ملت تشیع پاکستان کا قومی اجلاس

17 اکتوبر, 2026 18:39

شیعیت نیوز : مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال، ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کے خدشات اور یمن سعودی جنگ کی آڑ میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کے خلاف پھیلائے جانے والے بے بنیاد پروپیگنڈے کے سدباب کے لیے ملت تشیع پاکستان کی نمائندہ جماعتوں کا اہم قومی مشاورتی اجلاس جمعہ 16 اکتوبر کو کراچی میں منعقد ہوا، جس نے یمن سعودی جنگ میں پاکستان کے ثالثی کے کردار پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں : یمن کے مظلوم عوام پر بمباری بند کی جائے، پاکستان کو اس تنازع میں نہ دھکیلا جائے، علامہ مقصود ڈومکی

اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماء کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، امامیہ آرگنائزیشن، ہیئت ائمہ مساجد و علمائے امامیہ، پیام ولایت فاؤنڈیشن، تنظیم عزاداری، جعفریہ آرگنائزیشن اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ سمیت دیگر قومی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں علامہ ناظر عباس تقوی، مولانا صادق جعفری، مولانا عقیل موسیٰ، مولانا اصغر شہیدی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ نثار قلندری، علامہ سجاد حاتمی اور دیگر رہنما شریک تھے۔

شرکاء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کشیدگی میں ثالثی کر کے پاکستان نے دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے، اب بھی دو مسلم ممالک کے تنازع میں پاکستان کو فریق بننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے اور یمنی عوام بھی پاکستان سے یہی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت تشیع سمیت یمن کے غیور قبائل قبلہ اول کی آزادی کے لیے صیہونی دشمن کے خلاف برسرپیکار ہیں، اور جو قوم قبلہ اول کے لیے اپنی قیمتی قیادتیں قربان کر سکتی ہے وہ مکہ و مدینہ کی حفاظت کے لیے بھی اپنا سب کچھ داؤ پر لگا سکتی ہے، لہٰذا مکہ و مدینہ پر حملوں یا یمن سے ان کو خطرے کا پروپیگنڈا سراسر جھوٹ ہے۔

رہنماؤں نے خبردار کیا کہ امریکہ ایران پر نئے حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اگر اس نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو پاکستان کے شیعہ و سنی اپنے ہمسایہ ایرانی بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ اجلاس کی متفقہ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی تقریباً 30 فیصد آبادی پر مشتمل ملت تشیع کا مطالبہ ہے کہ یمن سعودی جنگ میں پاکستان آئین کے آرٹیکل 40 کے مطابق عمل کرے، جو قرارداد کے مطابق مسلم ممالک کے تنازعات میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کا تقاضا کرتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہی قائداعظم کی خارجہ پالیسی تھی اور اسی بنیاد پر 2015 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس جنگ سے الگ رہنے اور ثالثی پر زور دینے کی قرارداد منظور کی تھی۔

7:21 شام اکتوبر 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔