حرمین شریفین کے نام پر عوام کو مشتعل کرنا اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانا خطرناک ہے، علامہ سید جواد نقوی

16 اکتوبر, 2026 19:18

شیعیت نیوز : سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور مہتمم جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور علامہ سید جواد نقوی نے مسجد بیت العتیق میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حرمین شریفین کے نام پر عوام کو مشتعل کرنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے کی کوششیں انتہائی خطرناک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر محمود الشوبکی کا جامعہ عروۃ الوثقیٰ کا دورہ، علامہ جواد نقوی سے اہم ملاقات

انہوں نے کہا کہ غزہ کے مظلوم مسلمان مضبوط افواج رکھنے والے مسلم ممالک سے فریاد کرتے رہے مگر صیہونی مظالم روکنے کے لیے کوئی مؤثر عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، اس خاموشی نے ظالموں کو مزید شہ دی اور جنگ غزہ سے لبنان، ایران اور یمن تک پھیل گئی۔ آج ان محاذوں کو نشانہ بنانے اور محاصرے کا مقصد محاذ مزاحمت کو ختم کرنا ہے، اور یمن کا جرم صرف یہ ہے کہ اس نے غزہ اور فلسطین کی حمایت میں عملی کردار ادا کیا۔

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اہل سنت کی بڑی تعداد فلسطین کی حمایت اور صیہونی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی حامی ہے، لیکن بعض تکفیری، ناصبی اور کالعدم گروہ سنی شناخت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اور ریاست کا بیانیہ خوارج اور کالعدم تنظیموں کے بیانیے سے الگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکا دی گئی تو اس کے اثرات افغان جنگ کی طرح کئی دہائیوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حرمین شریفین کے نام پر اشتعال انگیز بیان بازی سے گریز کیا جائے اور حساس معاملات سفارتی ذرائع اور مذاکرات سے حل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حقیقی مدد یمن پر مزید حملوں کی حمایت میں نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت، حملوں اور محاصرے کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے میں ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں امن قائم کرا کر بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے۔

8:20 شام اکتوبر 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔