اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریں

ٹرین حادثہ کیسے ہوا؟؟؟معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والے ٹرین ڈرائیور سے سب بتا دیا

حادثہ کیسے رونما ہوا؟ معجزانہ طور پر بچ جانے والے انجن ڈرائیور سرسید ایکسپریس کی زبانی سنئے۔

شیعیت نیوز: گھوٹکی ، خوفناک ٹرین حادثے کا آنکھوں دیکھا حال، معجزاتی طور پرزندہ بچ جانے والے ٹرین ڈرائیور سے سب بتا دیا.گھوٹکی اسٹیشن پر ملت ایکسپریس کی بوگیاں ڈی ریل ہوکر ڈاؤن ٹریک پر جا گری، جس کے نتیجے میں مخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس ان سے ٹکرا گئی، دلخراش حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 تک جا پہنچی ہے، حادثہ کیسے رونما ہوا؟ معجزانہ طور پر بچ جانے والے انجن ڈرائیور سرسید ایکسپریس کی زبانی سنئے۔

انجن ڈرائیور سرسید ایکسپریس اعجاز شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ ریتی اسٹیشن سے نکلنے کے بعد ٹرین مقررہ اسپیڈ پر تھی کہ اچانک ملت ایکسپریس کی بوگیاں ڈی ریل ہوتی نظر آئیں، فاصلہ کم ہونے پر ٹرین ملت ایکسپریس کی ڈی ریل بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ انجن ڈرائیور سرسید ایکسپریس نے بتایا کہ حادثے کے بعد دو گھنٹے تک انجن میں پھنسا رہا، مقامی افراد نے دو گھنٹے بعد مجھے ریسکیو کیا۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی مسلمانوں سے ہمارا روحانی اور قلبی تعلق ہے، سینیٹر مشاہد حسین سید

اطلاعات کے مطابق گھوٹکی کے علاقے ریتی میں پیش آنے والے دلخراش حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 تک جا پہنچی ہے، علاقے میں پاک فوج سمیت ریسکیو اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حادثے کے فوری بعد اپ اینڈ ڈاؤن ٹریک پر ٹرینوں کی آمدروفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے، جبکہ اندورن ملک چلنے والی ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک دیا گیا ہے، شدید گرمی اور حبس کے باعث ان ٹرینوں میں موجود مسافر شدید اذیت سے دوچار ہوگئے ہیں۔

ڈی ایس ریلوے سکھر کے مطابق ٹرین حادثے میں 14 بوگیاں متاثر ہوئیں، جبکہ 3 مکمل طور پر تباہ ہوئیں، 9 بوگیاں ملت ایکسپریس کی حادثے میں متاثر ہو کر پٹڑی سے اتریں۔ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے ٹرین حادثے میں 30 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے، خاتون سمیت 7 افراد کی لاشیں اوباڑو اسپتال منتقل کر دی گئیں۔ ڈی سی گھوٹکی عثمان عبداللہ نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے میں 30 مسافر جاں بحق، جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کیلئے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بوگیوں میں بہت سے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کیلئے ہیوی مشینری، کٹر درکار ہیں، راستہ خراب ہونے کے باعث مشینری منتقل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتی اداروں میں شیعہ مکتب فکر کی مساوی نمائندگی نہ ہونے اور عزاداران پر مقدمات کےخلاف ایم ڈبلیوایم نے بڑا اعلان کردیا

اس حوالے سے ریلوےحکام نے بتایا ہے کہ مذکورہ حادثہ ریتی اور ڈہرکی ریلوے اسٹیشن کے درمیان علی الصبح پیش آیا، ملت ایکسپریس بوگیاں ڈی ریل ہونے پر پٹڑی پر کھڑی تھی، اس دوران کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹریک پر موجود ملت ایکسپریس سے ٹکرائی۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ریلوے کے مطابق حادثے کا شکار ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جا رہی تھی، حادثے کے بعد متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر کر الٹ گئیں۔ ذرائع کے مطابق جائے حادثہ پر چیخ و پکار مچ گئی، ریسکیو ٹیموں کے علاوہ مقامی افراد بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے، ٹرین حادثے کے متاثرین کو منتقل کرنے کا فوری طور پر کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا، بعد ازاں اہل علاقہ ٹریکٹر ٹرالیوں میں متاثرہ مسافروں کو شہر کی طرف منتقل کرنے لگے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close