دنیا

امریکہ اب تک ایران کے خلاف اپنائی گئی اپنی غلط پالیسیوں کا ازالہ کرے، ترجمان لیجیان ژائو

شیعیت نیوز: چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژائو نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے ہمیشہ اس مؤقف پر زور دیا ہے کہ تمام فریقوں کی جانب سے بورجام معاہدے پر مکمل اور بھرپور عملدرآمد سب کے فائدے میں ہے۔

امریکہ ایسا فریق ہونے کے ناطے جس نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نئی کشیدگی کا آغاز کیا ہے، ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو پر مبنی اپنی غلط پالیسی کا ازالہ کرے۔ امریکہ ایران کے خلاف عائد تمام پابندیاں ختم کر دے اور جلد از جلد مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات انجام دے۔

ترجمان لیجیان ژائو نے کہا کہ چین تمام فریقوں سے تعاون جاری رکھے گا اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو اپنے اصلی راستے پر واپس لانے کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

دوسری طرف امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی کابینہ کے دیگر افراد واضح کر چکے ہیں کہ وہ بورجام میں اس غرض سے واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ اسے ایران کے خلاف محدودیتوں کو زیادہ کرنے اور عرصہ دراز تک قائم رکھنے کیلئے استعمال کر سکیں۔ اگرچہ امریکی حکومت شروع سے ہی اس بات پر زور دیتی آئی ہے کہ بورجام میں واپسی کیلئے کوئی شرط پیش نہیں کرنا چاہتی لیکن اس کیلئے کوئی مؤثر اقدام انجام نہیں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی حکومت اپنے سیکیورٹی اہداف کے حصول میں ناکام ہوچکی، تجزیہ نگار امیر بوہبوٹ

امریکی حکام نے ابھی تک اس بارے میں اپنا مؤقف واضح نہیں کیا کہ اگر مستقبل میں بھی ایران کے میزائل پروگرام اور دیگر موضوعات کے بارے میں مذاکرات ممکن نہ ہوں تب بھی وہ بورجام میں واپس آئیں گے یا نہیں۔ اب تک سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے بورجام میں واپسی کو ایران کی جانب سے مستقبل میں دیگر موضوعات پر مذاکرات انجام دینے کے وعدے سے مشروط کر رکھا ہے۔

حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بورجام معاہدے سے متعلق امریکی پالیسیوں اور اقدامات کے بارے میں کہا کہ امریکی حکمران پابندیاں ختم کرنے کے زبانی وعدے تو دیتے ہیں لیکن ان پر عمل پیرا نہیں ہوئے اور نہ ہی ہوں گے۔

مزید برآں، وہ یہ شرط بھی لگا رہے ہیں کہ اس معاہدے میں یہ بات بھی شامل کر لی جائے کہ مستقبل میں بعض دیگر ایشوز پر بھی بات چیت کی جائے گی اور اگر ایسا نہ کیا تو ہم معاہدہ نہیں کریں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ وہ معاہدے میں اس بات کو شامل کر کے بورجام معاہدے، ہمارے میزائل پروگرام اور خطے میں ہماری سرگرمیوں میں مداخلت کا بہانہ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ایران ان موضوعات پر بات چیت کرنے سے انکار کر دے تو وہ یہ شور مچا سکیں کہ ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close