سعودی عرب

سعودی سابق ولی عہد کی حالت تشویشناک،کسی بھی وقت مرنے کا اعلان ہو سکتا ہے

شیعیت نیوز: موجودہ سعودی ولی عہد شہزادہ کے حکم قید کیے جانے والے سعودی سابق ولی عہد کی حالت اس قدر تشویشناک ہے کہ کسی بھی وقت ان کی موت کا اعلان ہوسکتا ہے۔

محمد بن نائف جنوری 2015 سے جنوری 2017 تک سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ تھے جب انہیں شاہ سلمان بن عبد العزیز نے معزول کیا تھا اور ان کی جگہ محمد بن سلمان کو ولی عہد بنا دیا ، اس کے بعد بن نائف کو 5 مارچ 2020 کو اپنے چچا احمد بن عبد العزیز کے ساتھ غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

این بی سی نے اطلاع دی ہے کہ سعودی سابق ولی عہد بن نائف کو ان کی نظربندی کے دوران سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا تاکہ وہ سہارے کے بغیر چل بھی نہ سکیں۔

العہد الجدید کے ٹویٹر اکاؤنٹ نے اس مسئلے پر توجہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہاایم بی سی کی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعداس سعودی شہزادے کی حالت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : بلجيئم میں حجاب پر سیاسی ہنگامہ، وزیر اعظم وضاحت دینے پر مجبور

اس ٹویٹر اکاؤنٹ نے لکھاہے کہ جوایم بی سی کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے العہد کے ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ بن نائف کو شدید ذیابیطس ہے اور انھیں کوئی دوا بھی نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے ان کا تقریبا 22کلوگرام وزن کم ہوگیاہے ،اس کے علاوہ وہ شدید افسردگی اور ذہنی عارضے میں بھی مبتلا ہیں۔

العہد الجدید نے مزید لکھا ہے کہ بن نائف کو سخت اذیتیں دی گئیں ،ان کی ٹانگیں اس طرح باندھ کر رکھیں جیسے انھیں سولی پر لٹکایا جانے والا ہو اور دو افراد نے اس کے پورے جسم کو پیٹا،انھیں کو نیند سے محروم کرنے سمیت نفسیاتی اذیت کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا نیز انھیں کئی دن تک ہاتھ، پیر اور آنکھیں بند کر کے چھوڑ دیا گیا تھا۔

ٹویٹر اکاؤنٹ نے مزید کہا کہ محمد بن نائف کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ درحقیقت انھیں آہستہ آہستہ موت کے منھ میں ڈکھیلنا ہے اور اس کا مقصد ان کی موت کو فطری شکل دینا ہے، اگر وہ اسی طرح مر جاتے ہیں تو بن سلمان یہی چاہتے ہیں اور اگر نہیں مرتے ہیں تو ایسے ہوجائیں کہ انھیں حکومتی امور تو دور کی بات اپنے ذاتی کام کرنے کے لیے بھی زندگی بھر کسی کے سہارے کہ ضرورت ہو۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close