اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

شیعہ مسنگ پرسنز کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا !؟

شیعہ مسنگ پرسنز کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا !؟ مسنگ پرسنز کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا، اس سوال کا جواب پاکستان کی ہیئت مقتدرہ سے متعلق دقیق معلومات رکھنے والے ہر انسان کو معلوم ہے۔ جس کو نہیں معلوم، اسکی معلومات میں اضافہ کردیں کہ پاکستان کا اصل ایشو ہی یہی ہے کہ یہاں آئین و قانون سے متعلق اداروں کے حکام اور اراکین ہی آئین اور قانون پر حملہ آور ہیں۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے، باقی مسائل ثانوی حیثیت کے حامل ہیں۔

خائن اور غدارمزے میں

تاریخ پر نگاہ کریں کہ پاکستان میں خائن اور غدارمزے میں رہے ہیں۔ آئین اور قانون میں مملکت کا غدار، خائن سب سے بڑا مجرم ہوتا ہے لیکن جنرل ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف تک چار مرتبہ آئین پر حملہ کرنے والے حملہ آور وں کو آج تک قومی مجرم نہیں مانا جارہا!؟

شیعہ مسنگ پرسنز کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا !؟

آئین میں پرائیویٹ ملیشیاء یعنی غیر سرکاری مسلح گروہوں کا قیام ممنوع ہے لیکن پرائیویٹ ملیشیاء کا تکفیری دہشت گرد مولوی بشمول کالعدم انجمن سپاہ صحابہ کے مولوی محمد احمد لدھیانوی ریاستی مہمان بنایا جاتا ہے۔ اگر فوج پر اور فوجی تنصیبات پر حملے اور فوجیوں کی جان و مال و عزت و آبرو پر حملے ریاست پر حملہ ہوتا ہے تو تکفیری ناصبی دہشت گردوں نے یہ جرم متعدد مرتبہ انجام دیا ہے۔

احسان اللہ احسان بھی بڑے مزے میں

حتیٰ کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاورمیں اسکول کے بچوں کا اجتماعی قتل کرنے کی ذمے داری قبول کرنے والا مجرم احسان اللہ احسان بھی بڑے مزے میں ہے۔ وہ جب نام نہاد اعلانیہ قید میں تھا تب بھی اس کے مزے تھے!۔

ایک فوٹو سیشن کے بعد آزاد

سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ ہے کہ بلوچستان میں دشمن ممالک اور خاص طور پر بھارت کے ایجنٹ علیحدگی پسند پراکسی دہشت گردی کررہے ہیں۔ مگر پاکستانی آئے دن دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ایسے غیر ملکی ایجنٹ دہشت گرد علیحدگی پسندوں کو روزانہ کی بنیاد پر ایک فوٹو سیشن کے بعد آزاد کردیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ تکفیری دہشت گرداور علیحدگی پسند در حقیقت شروع سے متحدہ عرب امارات، امریکا، برطانیہ، سعودی عرب سمیت بہت سے ملکوں پر مشتمل اتحاد کے پے رول پر ہوتے ہیں۔

پاکستان کے دشمنوں کے منظم نیٹ ورکس

پاکستان کے دشمنوں کے منظم نیٹ ورکس میں لاکھوں افراد شامل ہیں۔ ایسے افراد کا پکڑا جانا قابل فہم ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ ان میں سے چند ہزار کوپکڑ کر کیس بنالیا جاتا ہے تاکہ اپنی مرضی کی ٹائمنگ پر بلیک میلنگ یا سودے بازی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ یہی کام دشمن کرتے ہیں۔

پاکستان کے شیعہ مسلمان شہری

لیکن جو بات عدل و انصاف کے اصولوں کے ایک سو اسی درجہ خلاف ہے وہ یہ ہے کہ ہ جو شہری ان سرگرمیوں میں ملوث نہیں جن میں مذکورہ بالا مجرم ملوث ہیں، انہیں بھی جبری طور پر گم کردیا جائے۔ خاص طور پر پاکستان کے شیعہ مسلمان شہری پاکستانی قوم کا محب وطن، امن پسند اور قانون پسند طبقہ ہے۔

شیعہ مسنگ پرسنز کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا !؟

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں نے آج دن تک نہ تو کوئی علیحدگی پسند تحریک چلائی اور نہ ہی افواج پاکستان یا پولیس سے جنگ کی۔

مظلوم انسانوں کے نجات دہندہ امام مہدی عج
آج تک پاکستان میں جتنے بڑے سانحات ہوئے

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ آج تک پاکستان میں جتنے بڑے سانحات ہوئے، ان میں تکفیری ناصبی (جن کا اصل مسلک دیوبندی اور وہابی ہے) ملوث رہے ہیں۔ یا پھر علیحدگی پسند لسانی گروہ ملوث رہے ہیں۔ اور یہ بات بھی ریکارڈ پرہے کہ ایسے ملک دشمن اور انسانیت دشمن دہشت گردوں کے ساتھ بھی ریاست پاکستان کا رویہ بہت نرم ہے۔ بلکہ احسان اللہ احسان، مولوی لدھیانوی ٹولہ اور انکے ہم فکر افراد پورے پاکستان میں عیش و عشرت کے شب و روز گذاررہے ہیں۔ اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لاقانونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یوم پاکستان 23 مارچ ایک اہم قومی دن کیوں !؟
قائداعظم کو کافر بولنے والے کا ریاستی سرپرستی میں چھاؤنی کا دورہ

پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کو کافر بولنے والے پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں چھاؤنیوں کے دورے کرتے ہیں۔ دو تین سال قبل امر جلیل نے ایک افسانہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخانہ طنزیہ جملے کہے۔ اس پر آج تک بلاسفیمی کا کوئی مقدمہ تک قائم نہیں ہوا۔ کسی مولوی نے کافر کافر کے نعرے اسکے خلاف نہیں لگائے!۔

آئین کی بنیاد پر حملہ آور

یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی بنیاد پر حملہ آوروں کے ساتھ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے نرم ترین رویے کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس ملک کا اصل ایشو یہی ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے خلاف بھی کفریہ کلمات کہنے کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ امر جلیل ہو۔

پاکستان کا اصل ایشو یہی ہے

پاکستان کا اصل ایشو یہی ہے کہ یہاں سو سے زائد کمسن بچوں کو اسکول میں وحشیانہ طریقے سے قتل کرنا بھی اتنا سنگین جرم نہیں بشرطیکہ قاتل دہشت گرد احسان اللہ احسان اور مولوی محمد احمد لدھیانوی کا ٹولہ ہو!۔

شیعہ مسنگ پرسنز

شیعہ مسنگ پرسنز اس گناہ اور اس جرم میں ملوث نہیں۔ آفتاب نومی، ظہیر الدین بابر، سردار تنویر علی ریحان اوران کے ہم مسلک دیگر مسنگ پرسنز کا جرم یہ ہے کہ وہ پاکستان کے شیعہ مسلمان شہری ہیں۔۔

شیعہ مسنگ پرسنز کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا !؟

انکا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ پاکستان کے غیرت مند بیٹے ہیں۔ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا!۔ بلکہ۔۔۔ان پر لازم تھا کہ وہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا، برطانیہ کی سرپرستی میں احسان اللہ احسان اللہ، لدھیانوی کے ہم مسلک بن جاتے، پھر جو جی چاہے کرلیتے!۔

کوئی تمیں کچھ نہیں کہے گا !؟

ریاست پاکستان کا پیغام پاکستان کیا اسکے علاوہ بھی کچھ اور ہے!؟ صاف نظر آرہا ہے کہ نام نہاد پیغام پاکستان یہی ہے کہ امر جلیل بن جاؤ، لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز بن جاؤ، پھر اللہ تعالیٰ کے خلاف بکواس کرتے رہو، فوج کو گالیاں اور یزید کی تعریف کرتے رہو، کوئی تمیں کچھ نہیں کہے گا !؟ لیکن تم چونکہ ایسے بے غیرت اور بے ضمیر نہیں ہو، کیونکہ تم شیعہ ہو، اس لیے آج بلاوجہ قید میں ہو۔

جمعہ دو اپریل 2021ع سے شروع ہونے والا یہ دھرنا

بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کے مزار کے سامنے اسلامی حجاب میں ملبوس مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور معصوم کم عمر بچے، اپنے شیعہ مسنگ پرسنز کی آزادی کا مطالبہ لے کر اس غضب کی گرمی میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ جمعہ دو اپریل 2021ع سے شروع ہونے والا یہ دھرنا، پہلا دھرنا نہیں ہے۔

شیعہ مسنگ پرسنز کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا !؟

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی کراچی رہائشگاہ کے باہر بھی دھرنا دیا جاچکا ہے لیکن شیعہ مسنگ پرسنز آج بھی سیکیورٹی اداروں کی غیر اعلانیہ قید میں ہیں۔

وہ اس ریاست پاکستان کے قیدی ہیں جو ۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس ریاست پاکستان کے قیدی ہیں جو امر جلیل کو نہیں پکڑتی جو احسان اللہ احسان کو قید میں بھی وی وی آئی پی سہولیات دیتی ہے، جو لدھیانوی دہشت گرد کو چھاؤنی کے دورے کرواتی ہے!۔ شاید ریاست پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو قائد اعظم محمد علی جناح سے کوئی بدلہ لینا ہے جو پاکستان کے غیرت مند نظریاتی شیعہ فرزندوں کو اس نوعیت کی اذیت دے کر اپنی انا کی تسکین کرتی ہے!؟

ایک پیغام پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کا بھی ہے

لیکن ایک پیغام پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کا بھی ہے کہ ہم اپنے اس وطن سے وفا کرنا نہیں چھوڑیں گے اور اس ملک کے آئین پر حملہ آوروں کی خیانتوں کی وجہ سے انہیں کبھی بھی اچھا نہیں کہیں گے۔ پاکستان کا اصل ایشو یہی ہے کہ اس ملک کے خائن سلامتی کے نام پر ملک و قوم کی سلامتی اور عزت نفس پر حملہ آور ہیں۔ قانون نافذکرنے والے اداروں میں موجود خائن ہی لاقانونیت کے سرپرست ہیں۔

تیرا باپ بھی دے گا آزادی !!!!۔

پاکستان میں شیعہ مسنگ پرسنز کی مائیں بہنیں شرع مقدس اسلام ناب محمدی کی پیروکار ہیں۔ انہیں درس مقاومت جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا سے ملا ہے۔ اس لیے انکا احتجاج شائستگی کے ساتھ انجام پارہا ہے۔ ورنہ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبشلمنٹ کو عورت مارچ کے دوران غیر ملکی حکومتوں اور اداروں کی فنڈڈ ایکٹیوسٹ نے چلا چلا کر کہا تھا تیرا باپ بھی دے گا آزادی!!!!۔

تحریر : محمد اے زیڈ مہدی
Sit in for end to enforced disappearance of innocent Shia Muslims begins in Karachi

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close