اہم ترین خبریںپاکستان

شہیدراہ اسلام، علامہ حسن ترابی کو قوم سے بچھڑے آج 15برس بیت گئے، قاتل آج بھی قانون کی گرفت سے آزاد

اسرائیلی ایجنٹ کریم جو کہ ایک ناصبی دہشتگرد تھا 2.5کلو گرام دھماکہ خیز مواد جو کہ خودکش جیکٹ میں موجود تھا اس کے ہمراہ علامہ حسن ترابی پر حملہ کیا

شیعیت نیوز: اسلامی تحریک پاکستان سندھ کے شہید صدر علامہ حسن ترابی کو ملت جعفریہ پاکستان سے بچھڑے آج 15برس بیت گئے،تکفیری دہشتگردوں نے 14 جولائی 2006ء کو کراچی میں ہونے والی اسرائیل مخالف ریلی میں شرکت کے بعد واپسی پر علامہ حسن ترابی کو نشانہ بنایا اور ایک خودکش حملہ میں انہیں بھتیجے سمیت شہید کر دیا۔

علامہ حسن ترابی شہید اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی تھے، انہوں نے جہاں ہر فورم پر شیعہ، سنی اتحاد کی بات کی وہیں تکفیری اور دہشتگرد گروہوں کو بھی بھرپور طریقہ سے بے نقاب کیا، اسی وجہ سے انہیں راستے سے ہٹایا گیا۔ علامہ حسن ترابی اسلامی تحریک (موجودہ شیعہ علماء کونسل) کے انتہائی فعال رہنماء تھے۔ شہید حسن ترابی کی برسی ملک بھر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے اور ملت تشیع کیلئے دی جانے والی ان کی قربانی کو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ شیعیت نیوز کے مطابق شہید حسن ترابی کے قتل کی ذمہ داری کالعدم دہشتگرد جماعت لشکر جھنگوی نے ایک ویڈیو پیغام میں قبول کی تھی، تاہم شہید کے قاتل آج تک کیفر کردار تک نہ پہنچ سکے۔ واضح رہے کہ شہادت سے قبل بھی شہید علامہ حسن ترابی پر قاتلانہ حملے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں دشمن کی سازشوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت کے فروغ پر کام کرنا ہے، علامہ مقصودڈومکی

واضح رہے کہ شہید علامہ حسن ترابی پر کراچی میں کئی مرتبہ جان لیوا حملے کئے گئے ،واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ناصبی دہشت گرد عناصر علامہ حسن ترابی کی شخصیت سے خوفزدہ تھے تاہم ان کو بارہا اپنے حملوںکا نشانہ بناتے رہے۔

واضح رہے کہ شہید علامہ حسن ترابی پر آخری مرتبہ ناکام حملہ ان کی رہائش گاہ عباس ٹاؤن کے نزدیک ہوا ،یہ حملہ ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کی مدد سے کیا گیا تھا جو کہ ایک فروٹ فروش کی ریڑھیکے نیچے نصب تھا ،اس دہشتگردانہ حملے کے نتیجہ میں شہید علامہ حسن ترابی کے دو محافظ شہیدہو گئے اور گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

آخری حملہ جو کہ شہید کی شہادت کا باعث بنا 14جولائی2006کو ہو ا ،یہ حملہ اس وقت ہوا جب متحدہ مجلس عمل نے لبنان ،اسرائیل تنازعہ پر احتجاج کی اپیل کی تھی ،جب علامہ حسن ترابی گھر واپس آئے تو گھر میں داخل ہوتے وقت ایک خود کش بمبار جس کا نام عبد الکریم تھا نےخود کو دھماکہ کر کے اڑا دیا جس کے نتیجہ میں شہید علامہ حسن ترابی شہیدہو گئے اور دار فانی سے کوچ کر گئے۔

اسرائیلی ایجنٹ کریم جو کہ ایک ناصبی دہشتگرد تھا 2.5کلو گرام دھماکہ خیز مواد جو کہ خود کش جیکٹ میں موجود تھا اس کے ہمراہ علامہ حسن ترابی پر حملہ کیا اور گھر میں داخل ہوتے وقت خود کو بم دھماکہ کر کے اڑا دیا ۔شہید علامہ حسن ترابی کا دس سالہ بھتیجا علی عمران اور ایک محافظ بھی اس حملہ میں شہید ہو گئے جبکہ تین پولیس کے جوان بھی شدید زخمی ہوئے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close