اہم ترین خبریںپاکستان

پاکستان کی تاریخ کے بدترین سانحہ مسجد حیدری کراچی کو آج 17 برس بیت گئے

اس گروہ کی آزادی اور مصرف عمل رہنا 7مئی2004 کے شہداء کے خون سے غداری اور خیانت ہے شہدائے مسجد حیدری کے شہداء کا مقدس خون احتساب کا تقاضہ کرتا ہے

شیعیت نیوز: 7 مئی 2004 بروز جمعہ کا سورج کراچی میں بڑی تباہی اور خون ریزی کا پیغام لیکر طلوع ہوا۔ مسجد حیدری ایم اے جناح روڈ پر دوران نماز جنازہ خودکش حملے نے پورے ملک کو سوگوار کردیا تھا، اس اندہوناک سانحے میں درجنوں نمازی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے ۔ 17 برس بیت جانےکے بعد بھی آج تک ریاست پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سانحے کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیاب نہ ہوسکے اور شہداء کے ورثاء آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ المبارک 7مئی 2004 کو ایک خود کش بمبار مسجد حیدری میں نماز کے اجتماع میں حملہ آور ہوا ۔ اس حملے میں متعدد نمازی شہید ہوئے ۔اور تقریبا دو سو نمازی زخمی ہوئے ۔ مسجد حیدری سندھ مدرسہ الاسلام میں واقع ہے ۔سندھ مدرسہ الاسلام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مادر علمی ہے محمد علی جناح شیعہ مسلمان تھے ۔سات مئی کے شہداء بھی شیعہ مسلمان تھے۔ اس وقت کے صدر پاکستان نے اس خود کش حملے کو دہشت گردی قرا دیا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں: داعش کے مرکزلال مسجد اورتکفیری انتہاپسندی کے خلاف جہدمسلسل شہیدخرم زکی کو بچھڑے 5 برس بیت گئے

ایک وفاقی وزیر نے اس دہشت گردی میں ایک دہشت گرد گروہ کے ملوث ہونے کا تذکرہ کیا تھا ۔بعد میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ لشکرجھنگوی کے دہشت گردوں نے اس المناک سانحہ میں ملوث ہونے کا اقرار کیا تھا۔لشکرجھنگوی ایک سعودی نواز کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کا کالعدم ذیلی گروہ ہے ۔یہ دونوں گروہ ریاست نے کالعدم قراردیے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ گروہ تاحال کام کر رہے ہیں ۔ان کامقصد شیعہ سنی مسلمانون کے اتحاد میں رخنہ اندازی کرنا ہے ،لیکن مسجد حیدری کے سانحےکے نتیجے میں ان کی خواہشات کے پرعکس عمل ہوا ۔اس سانحے کے شہداء اور زخمیوں کو سنی مسلمانوں نے ہسپتال پہنچایا اور یوں سنی شیعہ اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا۔

ْ ایسا محسوس ہوتا ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دہشت گردوں سے خفیہ معاہدہ کر رکھا ہے ۔ورنہ یہ دونوں گروہ کھلے عام پورے ملک میں علیٰ اعلان اپنی کاروائیاں جاری نہیں رکھ سکتے تھے ۔بحرحال معاملہ کچھ بھی ہو ۔پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کو ایک واضع پیغام دیا جارہا ہے کہ پاکستان میں ان کےنا قابل تنسیخ جائز حقوق بھی محفوظ نہیں ہیں ۔یہ اتنا چھوٹا معاملہ نہیں ہے ۔بلکہ یہ ایسے گروہوں کو آزادی دی گئی ہے کہ جو شیعہ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور یہ گروہ کھلے عام شیعہ نسل کشی کی بات کرتے ہیں ۔یہ گروہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا جرم بن گیا، کوہاٹ میں یوم القدس ریلی پر پولیس کا کریک ڈاؤن

اس گروہ کی آزادی اور مصرف عمل رہنا 7مئی2004 کے شہداء کے خون سے غداری اور خیانت ہے شہدائے مسجد حیدری کے شہداء کا مقدس خون احتساب کا تقاضہ کرتا ہے ۔ اس مقدس خون سے وفاداری کا تقاضہ ہے کہ دہشت گرد گروہوں اور ان کے سرپرستوں کو سخت ترین سزا دی جائے ۔7مئی 2012 ہمارے لیے یہ ہی پیغام لایا ہے شیعہ مسلمان موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اس دعوے کو کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہیں ، مکمل طور پر رد کرتے ہیں ۔شیعہ مسلمان دفاع پاکستان کونسل کو دہشت گردوں کے مفادات کی کونسل قرار دے کر مسترد کرتے ہیں ۔اور ایسا کرنے کی بنیاد مذکورہ بالاناقابل تردید ثبوت ہے تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ وہ عدالت اور تاریخ کے کٹھرے میں مجرم کی حیثیت سے کھڑے ہیں کیونکہ یہ دہشت گردی کے طرف دار ہیں ۔سانحہ مسجد حیدری کےعظیم شہداء کے مقدس خون کا تقاضہ ہے کہ ان بدنام زمانہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو کھلے عام سخت ترین سزادی جائے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close