لبنان

لبنان، مظاہرین پر فائرنگ واقعہ میں صیہونی حکومت کے ملوث ہونے کا خدشہ

شیعیت نیوز: لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جمعرات کو ہونے والی فائرنگ واقعہ کے بعد جس میں کل جمعے کو سرکاری سطح پر عام سوگ منایا گیا۔

لبنان کے صدر میشل عون نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین پر فائرنگ کسی صورت قابل قبول نہیں اور ان کی حکومت آزادی اظہار کو یقینی بنائے گی۔

صدر مشیل عون نے کہا کہ اس قسم کی مشکلات کا حل، آئین اور قانون کے مطابق نکالا جائے گا اور کابینہ ضروری اقدامات عمل میں لائے گی۔ لبنان کے صدر نے کہا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کے اعادے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور ملک کو ماضی کی جانب دھکیلنے کی کوششیں ناکام رہیں گی۔

لبنانی فوج نے بھی جمعرات کی شام جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ اس نے فائرنگ واقعہ میں ملوث افراد کی تلاش میں کئی مقامات پر چھاپے مارے میں اور کم سے کم نو افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے بھی کیے جارہے ہیں تاکہ صورتحال کو بے قابو ہونے سے پچایا جائے اور دارلحکومت میں فساد کو روکا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں : لبنان کو خانہ جنگی میں ڈھکیلنے کی کوشش، حزب اللہ نے سازش کو ناکام بنایا

لبنانی فوج کے بیان میں آیا ہے کہ فوج کسی بھی مسلح شخص کے ساتھ نرمی نہیں برتے گی اور ہمارے دستے جھڑپوں کو روکنے کے لیے حساس مقامات پر تعینات ہیں۔

حزب اللہ اور امل تحریک نے بھی مظاہرین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرنے والوں کا تعلق ’’ القوات اللبانیہ‘‘ نامی ملیشا ہے۔

حزب اللہ اور امل نے اس حملے کو مجرمانہ فعل قرار دیا ہے جس کا مقصد ملک کے امن اور استحکام کو درہم برہم کرناہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں نے مظاہرین پر فائرنگ کرنے والوں کو گرفتار اور قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لبنان کے سابق صدر ایمل لحود نے مظاہرین پر فائرنگ کو اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کی کارستانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ استقامتی محاذ کو شکست دینے اور لبنان میں خانہ جنگی کرانے کا دشمن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ جمعرات کو لبنان کے دارالحکومت میں مظاہرہ کرنے والے پرامن شہریوں پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی جس میں شہید ہونے والوں کی تعداد اب سات ہوگئی ہے جبکہ ساٹھ سے زائد افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔

مظاہرین سانحہ بندرگاہ بیروت کی تحقیقات کرنے والی عدالت کے ایک جج طارق بیطار کے جانبدارانہ اور غیر پیشہ وارانہ رویئے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

اس واقعے میں شہید ہونے والے لبنانی شہریوں کی یاد میں کل ملک بھر کے سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند تھے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close