مقبوضہ فلسطین

بیت المقدس میں فلسطینی املاک چوری چھپے یہودیوں کو دیئے جانے کا انکشاف

شیعیت نیوز: فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس کے مقامی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ سلوان کی وادی حلوہ کالونی میں فلسطینی املاک چوری چھپے صیہونیوں کو فروخت کیے جانے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسری جانب بیت المقدس میں سلوان کے مقام پر فلسطینی شہریوں اور قابض اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

بیت المقدس کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ کے جنوبی ٹاؤن سلوان میں وادی حلوہ کے مقام پر فلسطینی زرعی اراضی اور اس پر تعمیر دو کمروں کا ایک فلیٹ چوری چھپے صیہونیوں کو فروخت کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز وادی حلوہ میں فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد نے املاک صیہونیوں کو دیے جانے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس موقعے پر قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین پرمرچوں والی گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی متاثر ہوئے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے دوران یہودی آبادکاروں نےچوری چھپے ولید احمد عطعوط نامی شخص سے یہ پراپرٹی خرید کی تھی۔ اس جائیداد کو یہودی تنظیم العاد کے حوالے کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : نام نہاد خلیفتہ المسلمین ،ترک صدرطیب اردغان کی اسرائیل کے ساتھ رنگ رلیوں کا راز فاش

ادھر سلوان میں دفاعی اراضی کمیٹی نے رواں ہفتے جائیدادوں کی صیہونیوں کو فروخت کیے جانےسے متعلق اطلاعات کی چھان بین کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا ہے۔ یہ اجلاس القراعین خاندان کی طرف سے دی گئی درخواست پر منعقد کیا گیا۔

دریں اثناء صیہونی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں ’غوش عتصیون‘ یہودی کالونی میں یہودی آباد کاروں کے لیے سیکڑوں مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔

بیت لحم میں ایک مقامی فلسطینی سماجی کارکن حسن بریجیہ نے بتایا کہ اسرائیلی آباد کاری کونسل نے غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم میں 510 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے 400 مکانات مجدال عواز کالونی مین جب کہ 110 مکانات جنوبی بیت لحم میں  بیت فجار کے مقام پر قائم یہودی کالونی میں تعمیر کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ بیت لحم شہر گذشتہ کچھ عرصے سے قابض صیہونی ریاست کی  جانب سے توسیع پسندانہ سازشوں کا  ہدف ہے جہاں فلسطینیوں کو مکانات کی تعمیر کی اجازت نہیں مگر یہودی آباد کاروں کو کھلی چھٹی حاصل ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close