اہم ترین خبریںپاکستان

برقعہ پوش مفرورمولوی عبد عزیزکو اسلام آباد میں طالبان کا پرچم لہرانا اور پولیس پر کلاشنکوف تاننا مہنگا پڑگیا

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز ساتھیوں کے ہمرا مسجد الفلاح میں گھس گئے اور مجھ پر حملہ آوار ہوئے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا نے ساتھیوں کے ہمرا ہ مجھ پر تشدد کیا ۔

شیعیت نیوزـ: برقعہ پوش مفرورمولوی عبد عزیزکو اسلام آبادمیں طالبان کا پرچم اور پولیس پر کلاشنکوف تاننا مہنگا پڑگیا۔اسلام آباد میں لال مسجد کےسابق خطیب پر تھانہ آبپارہ میں دو مختلف مقدمات درج کر لئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز پر مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش اور اسے اسلحہ دیکھانے سمیت مسجد انتظامیہ کو قتل کی دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت اور عزاداری مخالف گروہ ہم پر ظلم کےپہاڑ توڑنے والی بنو امیہ و عباس کے عشر و عشیر بھی نہیں ،علامہ احمد اقبال رضوی

مولانا عبدالعزیز 25ساتھیوں کے ہمراہ مسجد میں زبردستی داخل ہوئے۔ واضح رہے کہ مقدمے کے متن کے مطابق مسجد میں داخل ہونے سے روکنے پر اسلحہ دیکھا کر جان مارنے کی دھمکیاں دیں،دوسرا مقدمہ خطیب الفلاح مسجد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز ساتھیوں کے ہمرا مسجد الفلاح میں گھس گئے اور مجھ پر حملہ آوار ہوئے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا نے ساتھیوں کے ہمرا ہ مجھ پر تشدد کیا ۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں امریکہ کا بلیک باکس ـ ـ ـ| حصہ اول| تحریر:ڈاکٹر سعداللہ زارعی

واضح رہے کہ یہ دونوں مقدمات اسلام آباد میں ایک مسجد پر ناجائز قبضے کی کوشش اور منتظمین کو بزور اسلحہ حراساں کرنے کی جرم میں درج کیاگیا ہے جبکہ دو روز قبل اسی مولوی عبد العزیز نے جامعہ حفصہ پر دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان کے پرچم لہرائے تھے اور پرچم اتارنے کیلئے آنے والی اسلام آباد پولیس پر نہ صرف خود بلکہ درجنوں کارندوں کے ہمراہ کلاشنکوف اور بھاری خودکار اسلحہ بھی تانا تھا اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں تھیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خود ریاست کی مدعیت میں مولوی عبد العزیز کے خلاف غداری اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے فوری گرفتار کیا جاتا اور اسے نشان عبرت بنایا جاتا لیکن افسوس اس بار بھی ریاستی ادارے اس خطرناک دہشت گرد کے آگے بےبس دکھائی دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close