اہم ترین خبریںپاکستان

مہنگائی، بے روزگاری اور بیڈگورننس پی ٹی آئی حکومت کے ٹریڈ مارکس ہیں، علامہ اقتدار نقوی

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے پنجاب پر ایک ایسے شخص کو مسلط کر دیا ہے جس کے پاس کوئی ویژن ہے نہ اہلیت۔ سچی بات یہ ہے کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ پنجاب میں کوئی اہل آدمی آگے نہ آئے

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں 10روپے فی لیٹر اضافہ کرکے غربت کی ماری عوام پر مہنگائی کا ایک اور ایٹم بم گرادیا جس کو ہم مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں پٹرول، گیس، بجلی کی قیمتوں میں شرمناک اضافہ واپس لیا جائے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بیڈگورننس پی ٹی آئی حکومت کے ٹریڈ مارکس ہیں۔ مدینہ کی ریاست کا پاک نام لے کر عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا۔ ڈومیسٹک وائلنس بل، وقف املاک ترمیمی آرڈیننس سمیت دیگر قانونی سازی اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ حکومت تبدیلی مذہب کا قانون لانے جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم نے ملک کے اسلامی نظریہ کے خلاف قانون سازی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حکومت مغرب اور این جی اوز کا ایجنڈا آگے بڑھانے سے باز رہے۔ پی ٹی آئی نے اب تک 57 قوانین بنائے ایک بھی عوام کی فلاح کے لیے نہیں تھا۔ ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری میں تبدیل کر دیا گیا۔ ایک طرف معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، دوسری جانب خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ حکومت بتائے کہ تین سالوں میں اس نے کیا کیا؟ 22کروڑ عوام حکمرانوں کی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں، پی ٹی آئی بھی فلاپ ہو چکی، ن لیگ اور پی پی نے بھی اپنے دوراقتدار میں عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں ٹرک بھربھرکرداعشی دہشت گردپہنچ چکے ہیں، ادارےہوش کے ناخن لیں،آغاسید علی رضوی

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے پنجاب پر ایک ایسے شخص کو مسلط کر دیا ہے جس کے پاس کوئی ویژن ہے نہ اہلیت۔ سچی بات یہ ہے کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ پنجاب میں کوئی اہل آدمی آگے نہ آئے۔ تین سالوں میں صوبے میں سات بار آئی جی، پانچ بار چیف سیکرٹری تبدیل ہو چکے ہیں۔ بیڈگورننس، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کی وجہ سے پنجاب کے عوام پریشان ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ مافیاز کی وجہ سے ملک آگے نہیں جا رہا، بذات خود ایک اعتراف ہے کہ وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اشیائے خوردونوش، پٹرول، ڈیزل، گیس، ایل این جی اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا میں سو سے تین سو گنا اضافہ کیا ہے، عام آدمی کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close