اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

  متعہ کی تاریخ خاتم الانبیاء ﷺ کے دور سے صحابہ و تابعین کے دور تک

  متعہ کی تاریخ خاتم الانبیاء ﷺ کے دور سے صحابہ و تابعین کے دور تک

متعہ کی تاریخ خاتم الانبیاء ﷺ کے دور سے صحابہ و تابعین کے دور تک کو اس وجہ سے بیان کرنا پڑرہا ہے کہ بول نیوز ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن کے دوران نکاح کے موضوع پر سوالات کے جواب میں چند مولویوں نے ”حلالہ“ سے متعلق سوالات کو متعہ کی طرف موڑتے ہوئے متعہ اور مسیار دونوں کے بارے میں جھوٹ بولا۔

اسلام دشمن ملحدانہ و سیکولر ایجنڈا

ایک عام مسلمان سے معذرت کے ساتھ یہ عرض کردیا جائے کہ دین اسلام کے دشمن اسلامی ثقافت، عقائد اور فرائض و سنت و مستحبات سبھی سے خار کھاتے ہیں۔ اس لیے نکاح جیسے اہم اسلامی موضوع کو بھی متنازعہ بنانا، ایک وسیع تر اسلام دشمن ملحدانہ و سیکولر ایجنڈا کا ہی ایک حصہ ہے، جس میں بعض خائن اور بعض نادان مولوی دانستہ یا نادانستہ استعمال ہوتے رہتے ہیں۔

عارضی یا دائمی نکاح

وہ معاشرے کہ جو کسی بھی نوعیت کے عارضی یا دائمی نکاح پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ وہ معاشرے جو فری سیکس کے قائل ہیں، یعنی زنا بالجبر اور زنا بالرضا جیسی حرام کاری کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اس وقت امریکی حکومت کا ایک وزیر ہم جنس پرست ہے۔ امریکا آجکل دنیا بھر میں عورت کے عورت کے ساتھ اور مردوں کے مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات کے لیے دنیا بھر میں کھلے عام تبلیغ کررہا ہے۔

دین دھرم کی دشمن دنیا کا موقف برائے فری سیکس

اسی لیے یہ ایک عالمی سازش کا حصہ ہے کہ مسلمانوں کے مختلف مسالک کے نکاح سے متعلق فقہی اختلافات کو عوام الناس کے سامنے یوں پیش کرے گویا ملحد و مفسد و سیکولر دنیا یا دین دھرم کی دشمن دنیا کا موقف برائے فری سیکس درست مانا جائے۔

خائن و نادان مولویوں کے جھوٹ کا احتساب

اس تناظر میں ان خائن و نادان مولویوں کے جھوٹ کا احتساب کرتے ہیں۔ بول نیوز کی رمضان ٹرانسمیشن میں انہوں نے حلالہ کے بارے میں بھی کذب بیانی کی ہے۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی ہے گویا ”حلالہ“ کی اصطلاح سے انجان ہوں۔ اس لیے ان تینوں موضوعات پر چند نکات انتہائی اختصار کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔

فقہاء و علماء کے مابین اختلاف رائے ایک حقیقت

بہت زیادہ لمبی چوڑی تمہید کے بغیر یہ حقیقت جان لیں کہ یہ موضوع ہر مسلک کے فقہاء نے کتاب النکاح کے ذیل ہی میں بیان کیے ہیں۔ اور تینوں عنوان پر فقہاء و علماء کے مابین اختلاف رائے ایک ایسی حقیقت ہے جسے کوئی مفتی عابد مبارک، پروفیسر یونس صدیقی، مولوی محمد علی شاہ اور مفتی ابو محمد صاحب اور ملیر کینٹ کے رہائشی مفتی ولی سمیت یہ سارے صاحبان تمام تر چالاکیوں کے باوجود چھپانہیں سکتے۔

سنیوں کے چار فقہی آئمہ میں قدیم ترین

مثال کے طور پرسنیوں کے چار فقہی آئمہ میں جو عالم اسلامی تاریخ کے لحاظ سے قدیم ترین ہیں، وہ سنی فقہی امام مالک بن انس ہیں جن کی مشہور و معروف تصنیف کا عنوان ہے”موطا“۔ انکی رحلت 179ھجری قمری میں ہوئی۔

حلالہ اصطلاح صدیوں سے سنی معاشرے میں رائج

انہوں نے جن احادیث کے مجموعے کو موطا کے عنوان سے جمع کیا اس کے کتاب النکاح میں حدیث کے عربی لفظ کا اردو ترجمہ علامہ وحید الزمان نے بھی حلالہ ہی کیا ہے۔ اور یہی اصطلاح صدیوں سے بر صغیر میں سنی معاشرے میں رائج رہی۔ اسی طرح سنی معاشرے میں حلالہ بھی نافذ رہا ہے۔ آج کے چند مولوی ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں جھوٹ بول کر اس عنوان کو عوام سے چھپانہیں سکتے۔

مسیار پر بعض مولویوں کی کذب بیانی

دوسری اصطلاح مسیار ہے۔ اس عنوان پر بھی بول نیوز کے پروگرام میں بعض مولویوں نے کذب بیانی کی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نکاح مسیار کے حوالے سے بھی سنیوں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ سنی حنفی مفتی عبدالقیوم ہزاروی صاحب نے نکاح مسیار سے متعلق کہا کہ قرآن و سنت کی واضح ہدایات کی مخالفت ہے۔ مزید کہا کہ یہ نام اور کام دونوں ہی شرعی اصول کے خلاف ہیں۔

نکاح مسیار جائز نہیں

پاکستان کے مشہور دیوبندی حنفی مسلک کے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن نے مسیار کے حوالے سے سوال کا جواب بھی بہت واضح الفاظ میں یوں دیا کہ نکاح مسیار جائز نہیں ہے۔ البتہ علمائے اہل حدیث اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ اصطلاح طول تاریخ میں نہ تو خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے دور میں، نہ انکے بعدخلفاء کے دور میں کبھی مسلمان معاشرے میں موجود رہی۔

مفتی ولی صاحب کی بول نیوز میں کذب بیانی

تو مفتی ولی صاحب بول نیوز میں بلاوجہ ایک کذب بیانی کرچکے ہیں۔ اور اگر ان کا قرآن شریف پر ایمان عملی ہے تو لعنت اللہ علی الکاذبین کی قرآنی آیت کی روشنی میں اپنا فیصلہ کرلیں۔ یہی معاملہ پروفیسر یونس صدیقی کا ہے۔

مفتی عابد مبارک بریلوی رضا خانی مسلک  نجدی ٹرین میں سوار

جبکہ مفتی عابد مبارک بریلوی رضا خانی مسلک اس معاملے پر اس لیے خاموش رہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ وہ کم سے کم پچھلے ایک ڈیڑھ برس سے نجدی ٹرین میں سوارہوچکے ہیں۔ چونکہ نجدی ٹرین میں مسیار جائز ہے تو وہاں وہ اپنا بریلوی حنفی موقف یعنی مسیار کا ناجائز ہونا بیان کیے بغیر رخصت ہوگئے۔

سب سے بڑے کاذب مفتی ابو محمد صاحب

پھر اس پر مستزاد یہ کہ مسیار پراپنے اختلافات سے عوام الناس کی توجہ ہٹاتے ہوئے متعہ سے متعلق بھی کذب بیانی کرتے رہے۔ اور آخر میں سب سے بڑے کاذب مفتی ابو محمد صاحب نے یہ کھلا جھوٹ بیان کیا کہ اہل بیت عظام ع اور صحابہ کرام ؓ میں سے کسی نے بھی متعہ نہیں کیا۔ انکا بھی اگر قرآن مجید پر عملی ایمان ہے تو یہ بھی قرآنی آیت لعنت اللہ علی الکاذبین کے تحت اپنا فیصلہ کرلیں۔

اب یہ سارے مولوی حضرات پڑھ لیں

اب یہ سارے مولوی حضرات موطا امام مالک میں باب النکاح المتعہ کے بیان کی ذیل (فوائد) میں علامہ وحید الزمان نے (علامہ) زرقانی کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے، وہ پڑھ لیں تاکہ ان سبھی متعہ مخالفین کو افاقہ ہو۔ مفتی ابو محمد صاحب، قرآنی آیت لعنت اللہ علی الکاذبین کو سامنے رکھ کر اپنا فیصلہ کرلیں۔

متعہ کی تاریخ خاتم الانبیاء ﷺ کے دور سے صحابہ و تابعین کے دور تک

موطا امام مالک میں واضح لکھا ہے کہ اوائل اسلام میں متعہ درست تھا۔ یہ کسی شیعہ فقیہ کے الفاظ نہیں بلکہ آپکے بزرگان کی تحریر ہے۔ یہ آپکے بزرگان کا موقف ہے کہ اوائل اسلام میں متعہ درست تھا، یوم خیبر کو حرام ہوا، عمرہ قضا میں پھر درست ہوا، پھر فتح مکہ کے روز حرام ہوا، پھر جنگ اوطاس میں درست ہوا۔ مزید پڑھ لیجیے کہ آپکے بزرگان کے مطابق۔۔۔ ”اس بار بار کی حرمت اور حلت سے لوگوں کو شبہ باقی رہا۔ بعض لوگ متعہ کرتے تھے، بعض نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آنحضرت ص کی وفات ہوئی۔ اور حضرت ابوبکر کی خلافت میں بھی ایسا ہی رہا۔ اور حضرت عمر کی اوائل خلافت میں بھی یہی حال رہا۔

اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے والا امر جلیل تاحال آزاد
متعہ اور مسیار سے متعلق چند حقائق

بعد اسکے حضرت عمر نے اسکی حرمت برسر منبربیان کی۔ جب سے لوگوں نے متعہ کرنا چھوڑدیا مگر بعض صحابہ اس کے جواز کے قائل رہے جیسے جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید اور معاویہ، اسماء بنت ابی بکر، عبداللہ بن عباس، عمرو بن حویرث اور سلمہ بن الاکوع اور جماعت تابعین میں سے بھی جواز کی قائل ہوئی۔ (ملخص زرقانی)۔

یہ بھی سنی بزرگان ہی کا بیان کردہ نظریہ ہے۔

خائن اور نادان مولوی

اسے اچھی طرح پڑھ کر اپنا فیصلہ کرلیجیے کہ علامہ امین شہیدی صاحب کی یا آج کے دور کے کسی بھی شیعہ کی گردن اتنی پتلی نہیں ہے کہ متعہ کے بارے میں خائن اور نادان مولوی اسے دبوچ سکیں۔ جو بات آج کے دور میں آپ کو سمجھ آرہی ہے، کیا وہ خلیفہ حضرت ابوبکر کی بیٹی بی بی اسماء کو بھی سمجھ نہیں آئی، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں؟۔

صحابہ و تابعین سے اختلاف کرنے کے بعد بھی گستاخ صحابہ نہیں

آپ کا فہم اسلام ہی عجیب و غریب ہے کہ جن مسائل میں صحابہ و تابعین میں اختلاف ہو، وہاں آپ بعض صحابہ و تابعین سے اختلاف کرنے کے بعد بھی گستاخ صحابہ نہیں بنتے، اور دوسروں پر گستاخ گستاخ کا شور مچاتے ہیں۔

متعہ کو جائز سمجھنے والوں میں معاویہ بھی شامل

مزے کی بات یہ ہے کہ متعہ کو جائز سمجھنے والوں میں بنو امیہ کی سلطنت کے بانی معاویہ کا نام بھی شامل ہے۔ چلیے آگے موطا امام مالک میں متعہ کے بیان میں جو لکھا ہے اس پر غور فرمائیں۔ لکھا ہے عروہ بن ز بیر سے روایت ہے کہ خولہ بنت حکیم حضرت عمر کے پاس گئیں اور کہا کہ ربیعہ بن امیہ نے متعہ کیا تھاایک عورت مولدہ سے، وہ حاملہ ہے ربیعہ سے۔ پس نکلے حضرت عمر گھبراکر چادر گھسیٹتے ہوئے اور کہا یہ متعہ ہے، اگر میں پہلے اسکی ممانعت کرچکا ہوتا تو رجم کرتا۔

حضرت عمر نے ڈرانے کے واسطے کہا
متعہ پر بالاتفاق زنا کی حد لازم نہیں آتی

اب اسکی ذیل میں علامہ وحید الزمان نے لکھا ہے مولدہ وہ عورت ہے جو عرب کے ملک میں پیدا ہوئی اور ماں باپ اسکے عرب نہ ہوں۔ اسی کی ذیل (فوائد) میں مزید لکھا ہے کہ متعہ کرنے والے پر بالاتفاق زنا کی حد لازم نہیں آتی۔ حضرت عمر نے ڈرانے کے واسطے کہا تاکہ لوگ متعہ سے باز رہیں۔“ یہ ہے موطا امام مالک میں موجود دو ایسی احادیث کا پس منظر جو سنی مولوی متعہ کو ناجائز ثابت کرنے کے لیے دلیل کے طور پرپیش کرتے ہیں۔

یہ بھی سنی بزرگان ہی کا بیان کردہ نظریہ ہے۔

متعہ کی تاریخ خاتم الانبیاء ﷺ کے دور سے صحابہ و تابعین کے دور تک
متعہ صحابہ اور تابعین کے دور میں بھی رائج تھا

موطا امام مالک اور علامہ وحید الزمان اور علامہ زرقانی و دیگر کی تشریح کی روشنی میں ثابت یہ ہوا کہ متعہ صحابہ اور تابعین کے دور میں بھی رائج تھا۔ یہ بھی ثابت ہو اکہ حضرت عمر کے موقف کو بہت سے صحابہ اور تابعین نے مسترد کرکے متعہ کو جائز سمجھا۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ متعہ زنا نہیں ہوتا جبکہ مسیار نام کی کوئی چیز طول تاریخ میں تھی ہی نہیں، یہ موجودہ دور کے عرب شیوخ و شاہ کی بدعت ہے۔

یہ بھی سنی بزرگان ہی کا بیان کردہ نظریہ ہے۔

دائمی نکاح

جہاں تک بات ہے دائمی نکاح کی تو یہ حقیقت بھی ریکارڈ پر رہے کہ پہلے سارے مسلمان دائمی نکاح کو سمجھ لیں، ورنہ دشمن کی سازش کامیاب کرنے میں وہ خود نادانستہ سہولت کار بن جائیں گے۔ کیا وہ نکاح جس میں طلاق کا وقت پہلے سے طے نہیں ہوتا، کیا وہ از خود دائمی ہوتی ہے!؟ بالکل بھی نہیں۔

کیا نکاح باطل نہیں ہوگا!۔

آپ باقاعدہ ڈھول ڈھمکے لے کر سارے رشتے داروں کی موجودگی میں نام نہاد دائمی نکاح کرلیں اور اسی دن یا رات طلاق دے دیں۔ فقہ حنفی میں جیسا کہ خود مولوی عابد مبارک نے کہا تینوں طلاق بیک وقت تین ہی سمجھی جائیں گی تو طلاق تو دائمی نکاح میں فوری بعد بھی دے دی جائے تو کیا نکاح باطل نہیں ہوگا!۔

نکاح مقدس شرعی بندھن کو متنازعہ بنانے والی سازش

تو بہتر یہ ہوگا کہ نکاح جیسے مقدس شرعی بندھن کو متنازعہ بنانے والی سازش میں حصے دار نہ بنیں۔ لازم ہے کہ ان معاملات میں مسلکی تشریحات میں اختلاف اس بات کا باعث نہ بنے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین کے زمرے میں خود کو لاکھڑاکریں۔ عدل سے کام لیں۔

فری سیکس کے قائل حکمران اور انکے گماشتے

جو ٹولہ ان موضوعات کومیڈیا میں اس طرح اچھالنا چاہتا ہے کہ اس سے مختلف مسالک کے فقہی اختلافات کی وجہ سے دین اسلام پر سوالیہ نشان کھڑا کردے۔ اس ٹولے اور اسکے ایجنڈا کوہم شروع میں بیان کرچکے ہیں کہ یہ تو فری سیکس کے قائل حکمران اور انکے گماشتے ہیں۔ میڈیا میں انکی فنڈنگ ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ایسے موضوعات پراپنے ناقص علم کو خود تک محدود رکھیں۔

 متعہ کے خلاف بھونکنے والوں کی اصلیت

حق نواز جھنگوی لعنت اللہ علیہ اور اسکے پیروکاریزیدی ناصبیوں کو جاکر بتلادیں کہ متعہ سے متعلق موطا امام مالک میں درج دو احادیث کی ذیل میں ان صحابہ اور صحابیہ کے نام بھی پڑھ لیں جو اسے جائز سمجھتے تھے!۔ پاکستان میں متعہ کو زنا کہنے والے لعنتی جھنگوی، مولوی لدھیانوی، اورنگزیب فاروقی، رب نواز حنفی سمیت سب نے متعہ کو زناکہہ کر خود انہی شخصیات پر یہ الزام لگادیا ہے کہ جن کے دفاع کا یہ جھوٹا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ یہ ہے متعہ اور یہ ہیں متعہ کے خلاف بھونکنے والوں کی اصلیت!۔

محمد عثمان سعید شیعیت نیوز اسپیشل

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close