مقبوضہ فلسطین

حماس کا سعودی عرب میں قیدیوں سے متعلق انسانی حقوق کمیٹی کی رپورٹ کا خیر مقدم

شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے انسانی حقوق کمیٹی کی اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے جس میں سعودی عرب کی ایک جیل میں قید حماس کے سابق مندوب ڈاکٹر محمد صالح الخضری اور ان کے بیٹے ہانی الخضری کی قید اور رہائی سے انکار کو ظالمانہ قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کمیٹی نے کونسل میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈاکٹر الخضری اور ان کے بیٹے ہانی الخضری کو ظالمانہ انداز میں قید کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں باپ بیٹے کو غیرمنصفانہ ٹرائل اور بدترین تشدد کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کھلے عام پامال کیے جا رہے ہیں۔

انہیں بنیادی علاج کی سہولت تک میسر نہیں اورانہیں تشدد کا سامنا ہے۔ اس موقعے پرحماس نے ایک بار پھر سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیر حراست فلسطینی رہنماؤں کو رہا کرے اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں حماس کے سابق مندوب ڈاکٹر محمد الخضری اور ان کے بیٹے انجینیر ہانی الخضری کو تین سال قبل حراست میں لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر محمد الخضری کی عمر80 سال سے زائد ہے اور وہ کئی بیماریوں کا بھی شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : طالبان کی سرمایہ کاری کی دعوت ، سرمایہ کاروں کو جان و مال کے تحفظ کی یقین دہانی

دوسری جانب غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے غرب اردن کے جنوبی علاقوں کو ایک بار پھر جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔

فلسطین الان کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے جارح فوجیوں نے جمعے کو غرب اردن کے شہر جنین کے جنوبی علاقوں پر حملہ کیا جہاں فلسطینیوں اور غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔

اس رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے فلسطینیوں کے خلاف ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس میں دسیوں فلسطینی زخمی ہو گئے۔

صیہونی فوجیوں نے اسی طرح فلسطینیوں کو زدوکوب کیا اور ان کی گاڑیاں روکیں۔غاصب صیہونی حکومت نے دسمبر دو ہزار سترہ سے غزہ اور غرب اردن کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ جارحیت کا نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اس قسم کے وحشیانہ حملے مسلسل کئے جاتے رہے ہیں۔ غاصب صیہونی حکومت کی اس جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close