اہم ترین خبریںمشرق وسطی

مزاحمتی تحریک نہ ہوتی تو پورا لبنان صیہونیوں کےقبضہ میں ہوتا، شامی پادری مکاریس قلومہ

شیعیت نیوز: شام کے دارالحکومت دمشق میں کیتھولک چرچ کے پادری مکاریس قلومہ نے تکفیریوں اور صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک کے کردار کا سراہانا کیا۔

دمشق میں کیتھولک چرچ کے پادری مکاریس قلومہ نے کہا کہ اگر فوج کے ساتھ مزاحمتی تحریک نہ ہوتی تو اسرائیل آج پورے لبنان پر قابض ہوتا۔

مکاریوس قلوومہ نے المیادین نیوز چینل کو بتایا کہ میں ان عیسائیوں کے خلاف ہوں جو تکفیریوں کی حکمرانی چاہتے ہیں اور میں ان شیعوں کی حمایت کرتا ہوں جنہوں نے پورے شام کا دفاع کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگر یہ حزب اللہ، شامی فوج اور ان کی اتحادی افواج کی قربانیاں نہ ہوتی تو آج دمشق کے آس پاس ایک عیسائی شہرنہ ہوتا،اگر مزاحمتی تحریک شامی فوج کے ساتھ کھڑی نہ ہوتی تو اسرائیل آج پورے لبنان پر قابض ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں : دمشق دھماکے کی ذمہ داری سرایا قاسیون نامی دہشت گرد گروہ نے قبول کر لی

قلومہ نے مزید کہاکہ جنگ ، آگ اور گولیوں کے پاس موت کے سوا کچھ نہیں ہے اور ہم دوستی اور دوسروں سے مفاہمت چاہتے ہیں، دوسری جانب القاع چرچ کے پادری نے پیر کی رات لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی تقریر کے لیے اپنی حمایت پر بھی زور دیا۔

الیان نصر اللہ نے المیادین کو بتایا کہ لبنان اور شام میں دہشت گردوں کی خلافت قائم کرنے کا منصوبہ تھاجبکہ تکفیری منصوبے کی مخالفت کرنے والی سب سے بڑی طاقت سید حسن نصر اللہ کی قیادت میں مزاحمتی تحریک تھی، اگر دہشت گردوں کا منصوبہ کامیاب ہوا تو وہ توسیع کر کے یورپ پہنچ جاتے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حزب اللہ کے ساتھ ہمارا رشتہ پرانا اور تاریخی ہے ،ہمیں کوئی فکر نہیں ہے، ہمارے درمیان دوستی اور احترام ہے، واضح رہے کہ لبنان میں مختلف عیسائی شخصیات نے عیسائیوں کے لیے لبنانی حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کے مؤقف کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ مختلف عیسائی شخصیات نے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے عیسائیوں کے ساتھ حزب اللہ کے برادرانہ انداز کے بارے میں تبصرے پر ردعمل ظاہر کیا اور ان کی حمایت کی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close