دنیا

کابل میں افغان خواتین خواتین نے مظاہرہ کر اپنے حقوق کا مطالبہ کیا

شیعیت نیوز: افغان خواتین نے کابل میں مظاہرہ کرکے مستقبل کی حکومت میں اپنے حقوق کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرہ کرنے والی افغان خواتین نے ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں آزادی، روزگار اور تعلیم سمیت خواتین کے حقوق کی حمایت میں نعرے درج تھے۔

رپورٹ کے مطابق مظاہرہ کرنے والی افغان خواتین کا کہنا تھا کہ عورتوں کو ان کے حقوق دیئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان سے بچنے کے لئے پاکستان کا رخ کرنے والے افغان مہاجرین دونوں ملکوں کی سرحدوں پر سرگرداں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہزاروں افغان شہری طالبان سے بچنے کے لئے سرحد پار کرکے پاکستان کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں لیکن سرحد پر ہی سرگرداں ہیں۔ اسی کے ساتھ اب بھی بہت سے افغان شہری سرحد پر پہنچ گئے ہیں اور پاکستان میں داخل ہونے کی فکر میں ہیں۔

طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھال لینے کے بعد اعلان کیا ہے کہ کسی بھی افغان شہری کو ملک سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ طالبان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت میں ہر قوم اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افغان شہریوں کے حقوق محفوظ رہیں گے، اسکے باوجود افغان میں خاصی بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ذبیح اللّٰہ مجاہد کا پنج شیر میں فتح کا اعلان، ترجمان فہیم دشتی جاں بحق

دوسری جانب طالبان نے مذاکرات پر مبنی افغانستان کے صوبہ پنج شیر میں مزاحمتی محاذ کے لیڈر احمد مسعود کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

فارس نیوز کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ محمد نعیم نے پنج شیر میں مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب مذاکرات کے لئے کچھ بچا نہیں ہے۔

محمد نعیم نے دعویٰ کیا کہ احمد مسعود نے صلح و آشتی پر مبنی طالبان کی درخواست کو مسترد کیا جس کے بعد اُن کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی۔

گزشتہ گھنٹوں کے دوران احمد مسعود نے یہ کہا تھا کہ اگر طالبان پنج شیر، کاپیشا، پروان اور اندراب میں اپنے حملے روک دیتے ہیں تو وہ بھی جنگ سے دستبردار ہو جائیں گے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close