دنیا

دونباس میں ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم نہ کریں: زیلینسکی کی عالمی برادری سے اپیل

شیعیت نیوز: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست کے دوران زیلینسکی نے اپیل کی ہے کہ یوکرین کے مختلف علاقوں میں روس کے ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم نہ کریں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شامل ہونے والے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کی کہ روس نے یوکرین کے جن علاقوں میں ریفرنڈم کرایا ہے، اس کے نتائج کو تسلیم نہ کریں اور ماسکو پر شدید تر پابندیاں عائد کریں۔

زیلینسکی نے دعوی کیا کہ یوکرین سے بعض علاقوں کو الگ کرکے روس میں شامل کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اصولوں کے منافی ہے جس سے عالمی قوانین اور نظام کے اصول متاثر ہوسکتے ہیں ۔ زیلینسکی نے یہ بھی دعوی کیا کہ ماسکو کشیدگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں، ہنگری

یوکرین کے صدر نے کہا کہ روس نے آئی اے ای اے کی اس درخواست کو بھی نظرانداز کردیا ہے کہ جس میں ماسکو سے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر سے مکمل انخلا اور یوکرین کے ایٹمی مراکز کے خلاف کارروائی بند کرنے کو کہا گیا تھا ۔ انہوں نے روس کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ماسکو پر شدیدترین پابندیاں عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔

زیلینسکی نے دنیا بھر کے ممالک سے مالی اور دفاعی امداد مانگی اور یوکرین کی سلامتی کے لئے شفاف اور لازمی قانونی ضمانتوں کا بھی مطالبہ کیا۔

دوسری جانب دونیسک اور لوہانسک کے زیادہ تر ووٹروں نے رشین فیڈریشن میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

واضح رہے کہ لوہانسک، دونیسک، خرسون اور زاپوریژیا کو روس میں شامل کرنے کے لئے ریفرنڈم کا سلسلہ جمعہ تیئیس ستمبر سے شروع ہوا اور منگل ستائیس ستمبر تک جاری رہا ۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، جمہوریہ دونیسک میں ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ ننانوے فیصد ووٹروں نے روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔ لوہانسک میں بھی اٹھانوے فیصد ووٹ روس میں شامل ہونے کے حق میں پڑے ہیں ۔

ابتدائی نتائج کے مطابق دونیسک اور لوہانسک میں اسّی فیصد ووٹروں نے ریفرنڈم میں حصہ لیا ہے۔ اعلی عہدیداروں کے مطابق مذکورہ علاقوں میں ووٹوں کی گنتی بھی مکمل ہوچکی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سن دو ہزار چودہ میں بھی جزیرہ نمائے کریمیا ایک ریفرنڈم کے تحت یوکرین سے الگ ہوکر روس میں شامل ہوچکا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button