اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

یوم بحالی آئین پاکستان برائے شیعہ مسنگ پرسنز

یوم بحالی آئین پاکستان برائے شیعہ مسنگ پرسنز

دس اپریل 1973ع کوعوام کے منتخب نمائندگان نے سقوط ڈھاکہ کے بعد کے نئے آئین پاکستان کی منظوری دی تھی۔ اسی وجہ سے ہر سال 10اپریل یوم آئین پاکستان کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ باوجود ترامیم، اس آئین میں شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادی کی تحریری ضمانت موجود ہے۔

تحریر : غلام حسین

پاکستان کی مقننہ کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے یوم آئین پاکستان 2021ع کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کا آئین ملک کے ہر شہری کو تحفظ اور مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔

یوم بحالی آئین پاکستان برائے شیعہ مسنگ پرسنز

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آئین نے شہریوں کو جو مساوی حقوق اور تحفظ کی تحریری ضمانت دی ہے، اس پر ریاستی ادارے عمل بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ اس تحریری ضمانت پر پریکٹیکل یعنی اس کا عملی نفاذ ریاستی اداروں اور انکے ذیلی اداروں کی بنیادی ذمے داری ہے۔

سیکیورٹی اداروں کی غیر اعلانیہ جبری قید میں

اس وقت ملک بھر میں پاکستانی شہریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد محض اس وجہ سے اس گرم موسم میں کھلے آسمان تلے احتجاج میں مصروف ہے کہ انکے کماؤپوت بعض سیکیورٹی اداروں کی غیر اعلانیہ جبری قید میں ہیں۔ وہ اس کھلی غیر آئینی اور غیر قانونی جبری قید سے اپنے پیاروں کی فوری آزادی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

جبری قیدی پاکستان میں مسنگ پرسنز

ریاستی ادارے جن شہریوں کو جبری قیدی بناتے ہیں ان کے لیے پاکستان میں مسنگ پرسنز کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ انہی مجبور قیدیوں میں شیعہ مسنگ پرسنز بھی ہیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے شیعہ مسنگ پرسنز کی اپیل پر پاکستان بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

بوڑھے والدین، بچے اور خواتین دھرنا دیے بیٹھے ہیں

دو اپریل 2021ع سے اس احتجاجی تحریک کے نئے مرحلے کا آغاز کراچی سے ہوا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے سامنے شیعہ مسنگ پرسنز کے خاندان کے افراد بشمول بوڑھے والدین، بچے اور خواتین دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

یوم آئین پاکستان کے موقع پر

یوم آئین پاکستان کے موقع پر بھی عین بانی پاکستان کے مزار کے سامنے آئینی حقوق کی پامالی پر پاکستان کے ان شہریوں کا یہ احتجاج ریاستی اداروں کے لیے شرم کا مقام ہے۔ افسوس کہ آئینی حقوق کو پامال کرنے والے اتنے طاقت ور ہیں کہ پاکستان کی مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ سبھی اس کے سامنے بے بس ہیں۔

 آئین و قانون سے بالاتر ہستیاں

پاکستان کے محب وطن شیعہ شہریوں کو جبری اغوا کرکے غیر اعلانیہ قیدی بنانے والے متعلقہ وردی پوش افسران کوملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ بھی طلب کرنے سے ڈرتی ہے۔ پچھلے چند برسوں پر نظر دوڑائیں تو دور دور تک کوئی ایک ایسی سماعت نہیں کہ جب ان اغواکنندہ اداروں کے متعلقہ وردی پوش افسر کو کسی عدالت کی سماعت پر طلب کیا گیا!؟

Countrywide protest against enforced disappearance of Shias held

یا اگر کبھی غلطی سے طلب کیا ہو تو ان افسران نے عدالت میں حاضر ہونے کی زحمت کی ہو!؟۔ اور ان کی عدم حاضری پر عدالت نے توہین عدالت کی سز ا سنائی ہو!؟ یہ آئین و قانون سے بالاتر ہستیاں ہیں۔

پاکستان کے غیرت مند شیعہ بیٹے

پاکستان کے غیرت مند شیعہ بیٹے طول تاریخ میں کبھی بھی کسی بھی نوعیت کی پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے۔ نہ انہوں نے کبھی علیحدگی پسندانہ مہم چلائی اور نہ ہی ریاست اداروں پر حملے کیے!۔ جبکہ پاکستان میں علیحدگی پسند اور انکے حامی نیتا اور ریاست سے جنگ کرنے والے تکفیری ناصبی دہشت گردوں کے سرغنہ بھی بہت مزے میں ہیں۔

آئینی قوانین کی رٹ

جناب اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، یوم آئین پاکستان، یوم دستور پاکستان پر آپکے بیانات اورپیغامات کی کوئی حیثیت اور وقعت اس وقت ہوگی جب شہریوں کو جبری قیدی بنانے والوں پر آئینی قوانین کی رٹ نافذ ہوگی۔ فی الحال آپکے بیانات کی کوئی وقعت نہیں۔

یوم مذاق منایا جانا چاہیے

جس ملک کی ریاست کے ستون انتظامیہ کے ذیلی ادارے اور ان ذیلی اداروں کے ذیلی ادارے بھی ریاست کے تینوں ستونوں کی قیادت سے بالاتر حیثیت کے حامل ہوں، وہاں یوم آئین یا دستور کا دن نہیں بلکہ یوم مذاق منایا جانا چاہیے۔

محب وطن پاکستانی شیعہ شہری جبری قید

محب وطن پاکستانی شیعہ شہریوں کو جبری قید میں رکھنا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان سے وفاداری جرم ہے۔ ریاست کے ذیلی عسکری ادارے اور انٹیلی جنس ادارے پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کے حقوق کے منکر نظر آتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے والا امر جلیل تاحال آزاد
امر جلیل  پر نہ ریاست نے مقدمہ قائم کیا، نہ مولوی نےاجتماعات کیے

ایک طرف شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں میں شیعہ مسلمان شہریوں کو قرآن و سنت کی اپنی مسلمہ فقہ کی تشریح پر عمل کرنے سے روکا جارہا ہے۔ بعض مولوی حضرات اور انکے حامی اور کالعدم تکفیری ناصبی دہشت گرد سبھی پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کے آئینی حقوق پر حملہ آور ہیں لیکن اسی مملکت پاکستان میں امر جلیل پچھلے کئی برسوں سے اللہ تعالیٰ کی توہین کرتا چلا آرہا ہے لیکن اس پر نہ ریاست نے مقدمہ قائم کیا، نہ مولوی نے ویسے اجتماعات کیے جیسے یوم عاشورا کے بعد سے کرنا شروع کردیے تھے۔

مکار فراڈی ناصبی مولوی اور دہشت گرد تکفیری

اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مکار فراڈی ناصبی مولویوں اور دہشت گرد تکفیریوں نے بھی یرغمال بنارکھا ہے کہ جنہیں پچھلے کئی برسوں سے اللہ کی توہین پر مبنی امر جلیل کی وڈیونہ مل سکی!؟ یہ ناصبی، تکفیری اور ملحد اسی امریکی زایونسٹ مغربی بلاک کا ایجنڈا ہے جس میں سعودی عرب، بحرین، امارات اور دیگر نیٹو ممالک بھی شامل ہیں۔

یوم بحالی آئین پاکستان برائے شیعہ مسنگ پرسنز

ریاست پاکستان کے ففتھ کالم

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کو زیارت عاشورا اور دعائے صنمی قریش پڑھنے پر بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور امر جلیل اس جگہ کھلے عام اللہ کی توہین کرتا ہے کہ جہاں امریکا اور برطانیہ کے سفیر بھی شرکت کرتے ہیں۔

ریاست پاکستان کے حکام میں ففتھ کالم اپنے انہی غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈا پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کے آئینی حقوق، بنیادی انسانی حقوق اوردینی آزادی پر حملہ آور ہیں۔

مسئلہ محض آئین کے آرٹیکل دس کے عملی نفاذ کا نہیں

مسئلہ محض آئین کے آرٹیکل دس کے عملی نفاذ کا نہیں ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل دو، تین اور چارکا بھی ہے۔ تب کہیں جاکر آرٹیکل پانچ میں ریاست سے قانون سے وفاداری کی بات بعد میں آتی ہے۔ جو ادارے ان آئینی شقوں میں موجود حقوق اور آزادی کو سلب کررہے ہیں، ان پر بھی آئین کی شق  6یعنی سنگین غداری کا مقدمہ چلاکر سزادی جانی چاہیے۔

یوم بحالی آئین پاکستان برائے شیعہ مسنگ پرسنز

تیب کہیں جاکر پاکستانی قوم یوم آئین پاکستان کوواقعی طور پر منانے کے قابل بنے گی۔ ورنہ پاکستان میں دس اپریل کو یوم بحالی آئین پاکستان منایا جانا چاہیے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close